خطبات محمود (جلد 19) — Page 357
خطبات محمود ۳۵۷ سال ۱۹۳۸ء کوئی غریب، کوئی کمزور ہے کوئی طاقتور ، کوئی سفید ہے کوئی کالا ، کوئی بیمار ہے کوئی تندرست، کوئی موٹا ہے کوئی دبلا ، کوئی اندھا ہے کوئی سو جا کھا، اب یہ جو مختلف قسم کے تغیرات دنیا میں پائے جاتے ہیں ان کا کوئی سبب ہونا چاہئے۔پھر وہ خود ہی ایک سبب نکال لیتے ہیں اور کہتے ہیں چونکہ اللہ تعالیٰ بنی نوع انسان میں اتنا عظیم الشان فرق نہیں کر سکتا تھا اس لئے ضرور ہے کہ پہلے جنم کے اچھے یا بُرے اعمال کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرق کیا ہو۔اس طرح انہوں نے خود بخود ایک سبب تجویز کر کے تناسخ کا عقیدہ گھڑ لیا حالانکہ یہ بالکل غلط ہے۔انسانوں میں فرق ہونے کے کئی اسباب ہو سکتے ہیں۔کسی ایک عقلی سبب کو اصل سبب قرار دینا صداقت سے محروم ہونا ہے۔کسی نتیجہ کا اصل سبب کیا ہے اس کا علم واقعہ سے ہی لگ سکتا ہے نہ کہ قیاس سے اگر کوئی قیاس کرے گا تو وہ ضرور ٹھوکر کھائے گا۔میں ہمیشہ کہا کرتا ہوں کہ ہندوؤں کے اس اصل کی ایسی ہی مثال ہے جیسے رات کے وقت کوئی شخص بازار میں سے گزر رہا ہو۔اب یہ بھی ممکن ہے کہ اس کا کوئی رشتہ دار بیمار ہو اور اس نے اسے کہلا بھیجا ہو کہ مجھے آکر مل جاؤ۔اور یہ بھی ممکن ہے کہ کی ریل کا وقت ہوا اور ریلوے سٹیشن کا راستہ وہیں سے گزرتا ہو اور وہ گاڑی میں سوار ہونے کے لئے وہاں سے گزر رہا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ کوئی مسافر ہو جو کہیں دور سے آرہا ہومگر راستہ میں اسے دیر ہوگئی ہو اور وہ اب گھر پہنچنے کے لئے جلدی جلدی جار ہا ہوا اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ کوئی چور ہو اور چوری کی نیت سے اس وقت پھر رہا ہو۔اب اگر ہم اس کو دیکھ کر ان تمام قیاسات کی میں سے ایک قیاس کر لیں کہ وہ ضرور چور ہے اور اس قیاس کی بناء پر بلا تحقیق کے اسے چوری کی سزا دے دیں تو سخت ظلم ہوگا۔یہی حال ہندوؤں کا ہے۔انہوں نے بھی فیصلہ کر لیا کہ چونکہ خدا تعالیٰ اپنے بندوں میں فرق نہیں کر سکتا اس لئے ضرور ہے کہ پہلے کسی جنم میں انسان اچھے یا برے اعمال کر چکا ہو اور ان کی سزا یا جزاء بھگتنے کے لئے اس عالم میں آیا ہو۔یہ نہیں دیکھا کہ بنی نوع انسان میں جو تفاوت پایا جاتا ہے اس کے اور بھی کئی موجبات ہو سکتے ہیں۔صرف عقل سے ایک سبب معلوم کیا اور اسی کو اصل سبب قرار دے کر اس پر عقیدہ کی بنیا د رکھ دی۔یہی ٹھوکر کی عیسائیوں نے کھائی ہے۔انہوں نے بھی یہ خیال کر لیا کہ خدا تعالیٰ عادل ہے وہ کسی کو بغیر گناہ کے تکلیف نہیں دے سکتا اور مسیح بے گناہ تھے ان کو جو تکلیف پہنچی وہ ضرور کسی گناہ کے سبب