خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 297 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 297

خطبات محمود ۲۹۷ سال ۱۹۳۸ء خبر گیری اور پرورش اس لئے نہ کرو کہ تمہارے دل میں اس کا خیال پیدا ہوا ہے بلکہ اس لئے کی کرو کہ رب العلمین خدا تمہارے سامنے جلوہ گر ہے اور تمہارا فرض ہے کہ اس کی ربوبیت کا جامہ پہن لو۔غرض تم اُس وردی کے پہننے والے ہو جو تمہارا افسر پہنتا ہے۔جس طرح بادشاہ جس قسم کی وردی پہنتا ہے اُسی کی نقل سپاہیوں کو پہنائی جاتی ہے۔اسی طرح تمہارا بھی فرض ہے کہ تم اپنے ازلی اور ابدی بادشاہ کی طرف دیکھو اور جو اُس کا لباس ہو وہ پہنو۔اور یا درکھو کہ جس طرح وہ سپاہی جو بادشاہ کا مقرر کردہ لباس نہیں پہنتا اُس کا نام فوج میں سے کاٹ دیا جاتا ہے اسی طرح وہ شخص جو ایمان کا دعویٰ کرتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کی صفات اپنے آئینہ قلب میں منعکس نہیں کرتا اور نہ ان صفات کے مطابق اپنے معاملات رکھتا ہے، اُس کا نام اللہ تعالیٰ کے حضور مؤمنوں کی فہرست میں سے کاٹ دیا جاتا ہے۔(الفضل ۱۰؍جون ۱۹۳۸ء) الفاتحة : ٧،٦ بخارى كتاب الصوم باب هَلْ يَقُولُ إِنِّي صَائِمٌ إِذَا شُتِم البقرة: ۱۸۷ النمل: ٦٣ ه الضحى: ۱۲ بخاری کتاب المناقب باب علامات النبوة في الإسلام ك النور : ۵۶ بخاری کتاب الایمان باب سُوالِ جِبْرِيلَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عن الايمان (الخ) بخارى كتاب الجمعة باب الطَّيِّبُ للجُمُعة ا الاعراف: ۱۵۷