خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 296 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 296

خطبات محمود ۲۹۶ سال ۱۹۳۸ء محبوب منہ کر کے دیکھتا ہے اُس میں اُس کی شکل بھی آجاتی ہے۔پس صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عليهم : کے یہ معنے ہیں کہ وہ لوگ جنہوں نے خدا تعالیٰ کا چہرہ دیکھ لیا اور اُنہوں نے لوگوں کی سے یہ کہنا شروع کر دیا کہ اگر تم خدا تعالیٰ کی شکل دیکھنا چاہتے ہو تو ہمارے دل کے آئینہ میں اس کی شکل دیکھ لو۔پس ان کا لوگوں کے ساتھ جو بھی معاملہ ہو خدا تعالیٰ کی طرز پر ہوتا ہے۔جب وہ کہتا ہے نرمی کرو تو وہ نرمی کرتے ہیں۔جب کہتا ہے دلیری دکھاؤ تو دلیری دکھاتے ہیں۔جب کہتا ہے خاموش رہو تو خاموش ہو جاتے ہیں۔جب کہتا ہے بولوتو بولتے ہیں۔جب اس مقام کو کوئی جماعت حاصل کر لیتی ہے تو اس کے بعد خدا تعالیٰ کا ظہور اس کے ذریعہ ہونے لگتا ہے لیکن جو قوم اپنے آپ کو اس کا آئینہ نہیں بناتی اس میں اس کی شکل نظر نہیں آسکتی۔کیا مٹی کے ڈھیلے لے کر تم لوگوں کو تصویریں دکھا سکتے ہو؟ مٹی کے ڈھیلوں میں تصویر نظر نہیں آتی بلکہ تصویر اُس وقت نظر آئے گی جب تمہارے پاس آئینہ ہو گا اور آئینہ بھی وہ جس کا محبوب کی طرف منہ ہو۔پس تم اپنے آپ کو خدا نما آئینہ بناؤ اور آقا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّت کے حکم کے مطابق تمام دنیا کو محبوب ازلی کے خوبصورت چہرہ سے روشناس کرو کیونکہ آئینہ صرف اپنے اندر ہی تصویر نہیں لیا کرتا بلکہ دوسروں کو بھی دکھا دیتا ہے۔پس تم بھی ایسے بنو کہ تمہارے اندر خدائی نور نظر آئے اور تمہارے ذریعہ سے خدا تعالیٰ کا منشاء ظاہر ہو۔جب تم سختی کیلئے کھڑے ہو تو اس لئے مت کھڑے ہو کہ تمہارا نفس تمہیں کہتا ہے کہ تم سختی کرو بلکہ تم اس لئے سختی کرو کہ تمہارا خدا کہتا ہے میں مالِكِ يَوْمِ DOWNLOAD ہوں اور تمہارا فرض ہے کہ تم اس صفت کے مظہر بنو۔اسی طرح جب نرمی کیلئے کھڑے ہو تو اس لئے مت نرمی کرو کہ تمہارا نفس تمہیں نرمی کا مشورہ دیتا ہے بلکہ اس لئے نرمی کرو کہ تمہارا خدا کہتا ہے رَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلّ شَيْء اور تمہارے خدا کا یہ حکم ہے کہ تم اس کی صفات اپنے اندر پیدا کرو۔اسی طرح جب بنی نوع انسان سے شفقت اور احسان کے ساتھ پیش آؤ تو اس لئے شفقت اور مروت مت کرو کہ ذاتی طور پر تمہارے دل میں کی شفقت کا خیال پیدا ہوا ہے بلکہ اس لئے شفقت کرو کہ تمہارا خدا کہتا ہے کہ میں رحمن اور رحیم ہوں اور تمہارا فرض ہے کہ صفت رحمانیت اور رحیمیت کے مظہر بنو۔اسی طرح جب تم بیکسوں اور غریبوں کی خبر گیری کرو، جب تم قتیموں کی پرورش کرو ، جب تم بیواؤں پر ترس کھاؤ تو ان کی ؟