خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 273 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 273

خطبات محمود ۲۷۳ سال ۱۹۳۸ء کسی وقت اس کے راستہ میں دقتیں ہوں تو ہم کو حالات بتا کر ہم سے تعاون کی درخواست کرے۔اس صورت میں بالکل ممکن ہے کہ ہم اپنے حقوق کو خود خوشی سے چھوڑ دیں۔اگر تو کوئی افسر ہمیں کی یوں کہے کہ ہم مانتے ہیں فلاں قوم نے یا فلاں شخص نے تم پر ظلم کیا ہے مگر چونکہ ہمارے لئے انتظام کرنا مشکل ہوگا اس لئے تم معاف کر دو، تو ہم یقیناً معاف کر دیں گے لیکن اس کی بجائے وہ ظالم کے بچاؤ کیلئے دلائل دینے لگتے ہیں اور ہم پر اعتراض کرنے لگتے ہیں جسے برداشت کرنے کیلئے ہم تیار نہیں ہیں۔یہ نہیں ہو سکتا کہ ہم مظلوم بھی ہوں اور حکام محض بُزدلی سے اور کی احرار یا دوسری قوموں سے ڈر کر ہمارے حقوق تلف کریں اور پھر اپنی اس کمزوری کو چھپانے کیلئے ہمیں ہی غلطی پر قرار دیں اور ہم اس کو برداشت کر لیں۔ایسی صورت میں ہمارا فرض ہے کہ ملکی قانون کو مد نظر رکھتے ہوئے جو تد بیر بھی اس سختی کو دور کر نے کیلئے اختیار کر سکیں کریں۔غرض حکومت کو یا تو انصاف کرنا پڑے گا اور یا ہماری مظلومیت کو تسلیم کر کے ہم سے خواہش کرنی پڑے گی کہ ہم اُس کی مشکلات کو دیکھتے ہوئے اپنے حق کا مطالبہ نہ کریں لیکن اگر وہ ایسا نہ کی کریں تو میں جیسا کہ پہلے بھی کہہ آیا ہوں ہماری جماعت کو دو باتیں کرنی پڑیں گی۔ایک تو یہ کہ وہ قربانی کیلئے تیار ہو جائے اور دوسرے یہ کہ وہ اپنے اخلاق کی اصلاح کرے اور قانون کی اطاعت پر پہلے سے بھی زیادہ کار بند ہو۔انہیں چاہئے کہ وہ ہر قسم کے ظلم کو کلی طور پر چھوڑ دیں اور اپنے نفس کی عزت کا خیال دل سے نکال دیں۔ان کی عزت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت سے زیادہ نہیں۔آپ پر مکہ میں جسے خدا تعالیٰ نے امن والا شہر بنایا ہے اور جہاں تمام مشرک اور بُت پرست بھی آزادی کے ساتھ رہتے سہتے تھے ، عین خانہ کعبہ میں جب آپ نماز پڑھ رہے تھے اور سجدہ میں تھے بعض شریر مخالفوں نے اونٹ کی گوبر سے بھری ہوئی اوجھڑی لا کر آپ کے سر پر رکھ دی۔سکے انہیں سوچنا چاہئے کہ کیا ہماری عزت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی زیادہ ہے۔اگر ہمارا آقا اور سردار ان باتوں کو برداشت کر لیتا تھا تو ہمیں اس سے کئی گنا زیادہ مصائب برداشت کرنے چاہئیں۔پس جب تمہاری ذلت ہو تو اسے برداشت کرو اور جب تم پر ظلم ہو تو خاموش رہو۔ہاں صرف ایک بات کو مدنظر رکھو اور وہ یہ کہ جہاں سلسلہ کی عزت کا سوال ہو اُس وقت ہر جائز قربانی کرنے کیلئے تیار رہو۔اور جب تم ان دو باتوں