خطبات محمود (جلد 19) — Page 195
خطبات محمود ۱۹۵ سال ۱۹۳۸ء میں خیمے لگے ہوئے ہیں۔آپ نے فرمایا یہ کیا ہے؟ صحابہ نے عرض کیا یہ امہات المؤمنین کے خیمے ہیں جو اُنہوں نے معتکف ہونے کیلئے لگائے ہیں۔آپ نے فرمایا اُٹھاؤ سب کو۔اگر یہ خیمے یہاں لگے رہے تو لوگوں کو نماز پڑھنے کی جگہ کہاں ملے گی لے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا عورتوں کے حقوق کا ہمیشہ خاص خیال رکھا کرتی تھیں مگر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے متعلق ہی آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ایک موقع پر آپ نے فرمایا۔اگر عورتوں کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ویسے ہی حالات ظاہر ہوتے جیسے آج کل ظاہر ہیں تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کو مسجد میں نماز پڑھنے سے روک دیتے ہے اب یہ بالکل قریب زمانہ کی بات ہے۔زیادہ سے زیادہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر تمیں چالیس سال گزرے ہوں گے مگر آپ فرماتی ہیں کہ اگر آج سے چند سال پہلے یہ حالات ظاہر ہوتے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کو مساجد میں آنے سے منع فرما دیتے اور آپ نے جو اجازت دے رکھی تھی اسے منسوخ فرما دیتے۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض کی حدیث العبد عورتیں یا غیر قوموں کی عورتیں پردہ میں پوری احتیاط ملحوظ نہیں رکھتی ہوں گی اور کی لوگ اعتراض کرتے ہوں گے جس پر آپ نے یہ فرمایا۔جیسے قادیان میں بھی بعض ایسی باتوں پر لوگ اعتراض کر دیا کرتے ہیں مگر باوجود حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے اس اعتراض کے وہ زمانہ خیر القرون ہی کہلاتا ہے کیونکہ انہوں نے اصلاحی پہلو سے یہ اعتراض کیا تھا۔یہ نہیں کہا کہ قوم گندی ہوگئی۔مگر اس کے یہ معنے نہیں کہ ان چیزوں کو قائم رکھا جائے بلکہ ہمیں ان امور کی اصلاح کی فکر کرنی چاہئے اور وہ اصلاح اسی رنگ میں ہوسکتی ہے کہ نو جوانوں کو اس امر کی تلقین کی جائے کہ وہ اپنے اندر ایسی روح پیدا کریں کہ اسلام اور احمدیت کا حقیقی مغز انہیں میسر آجائے۔اگر ان کے اندر اپنے طور پر یہ بات پیدا ہو جائے تو پھر کسی حکم کی ضرورت نہیں رہتی۔حکم دینا کوئی ایسا اچھا نہیں ہوتا۔دنیا میں بہترین مصلح وہی سمجھا جاتا ہے جو تربیت کے ساتھ اپنے ماننے والوں میں ایسی روح پیدا کر دیتا ہے کہ اس کا حکم ماننا لوگوں کیلئے آسان ہو جاتا ہے اور وہ اپنے دل پر کوئی بوجھ محسوس نہیں کرتے۔یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم باقی الہامی کتب پر فضیلت رکھتا ہے اور الہامی کتابیں