خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 185 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 185

خطبات محمود ۱۸۵ سال ۱۹۳۸ء کے نتیجہ میں وہ بعد کی مشکلات میں بھی ثابت قدم رہے۔یہی وجہ ہے کہ جلالی انبیاء کی زندگی کا ایک حصہ جمالی رنگ اپنے اندر رکھتا ہے۔جلال آتا ہے بعض اور حکمتوں کی وجہ سے اور جمال آتا ہے لوگوں کے ایمانوں کو مضبوط کرنے کیلئے۔اور چونکہ ہر نبی کی بعثت کا اہم ترین مقصد لوگوں کے ایمانوں کو مضبوط کرنا ہوتا ہے۔اس لئے ہر نبی جمال کا رنگ اپنے اندر رکھتا ہے۔تم ایک نبی بھی ایسا نہیں دکھا سکتے جس کو خدا تعالیٰ نے مقام نبوت پر کھڑا کرتے ہی حکم دے دیا ہو کہ جاؤ اور مخالفین سے جہاد کرو کیونکہ اگر اسی دن جہاد کا حکم دے دیا جاتا تو لوگوں کے ایمان مضبوط نہ ہوتے اور لمبی اور مسلسل تکالیف سے ان کے قلوب میتقل نہ ہوتے۔مگر تم میں سے کتنے ہیں جو کہتے ہیں کہ کاش! ہم بدریا اُحد یا احزاب کے موقع پر ہوتے اور اپنی جانیں خدا تعالیٰ کے راستے میں قربان کر دیتے اور اس امر کو بھول جاتے ہیں کہ اصل قربانیوں کا میدان ان کیلئے بھی کھلا ہے اور آج بھی وہ اسی طرح قربانیاں کر کے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کر سکتے ہیں جس طرح کی صحابہ نے قربانیاں کیں۔مگر تم میں سے کتنے ہیں جو قربانی کی اس خواہش کے باوجود قربانیوں کی میں استقلال دکھاتے ہیں۔تم میں سے کتنے ہیں جو وعدے کرتے اور پھر انہیں جلد پورا کرنے کی کا فکر کرتے ہیں، تم میں سے کتنے ہیں جو میرے کسی خطبہ یا تقریر وتحریر کے محتاج نہیں حالانکہ اصل مؤمن وہی ہیں جو اس بات کے محتاج نہیں کہ میں انہیں ان کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلاؤں بلکہ میرے کسی خطبہ یا تقریر یا یاد دہانی کے بغیر وہ ہر وقت قربانیوں کیلئے تیار رہتے ہیں اور اپنے فرائض کی ادائیگی میں سستی یا غفلت سے کام نہیں لیتے۔ہاں وہ جو میری یاد دہانیوں کے محتاج ہیں وہ بھی مؤمن ہیں مگر اول درجہ کے نہیں بلکہ دوسرے درجہ کے۔لیکن وہ جو غافل ہیں جو خدا تعالیٰ کے دین کی مدد سے کنارہ کشی کر رہے ہیں، جو مصائب کو دیکھتے اور ان کے قدم لڑکھڑا جاتے ہیں اور کہتے ہیں مصیبتوں کا زمانہ لمبا ہو گیا ، ہم کب تک قربانیاں کرتے چلے کی جائیں ، وہ وہ ہیں جن کے دلوں پر اللہ تعالیٰ نے مُہر کر دی۔وہ اس قابل نہیں کہ اس جماعت میں رہ سکیں اور یقیناً اگر وہ اپنے افعال سے تو بہ نہیں کریں گے تو کسی وقت کوئی ایسی ٹھو کر کھائیں گے کہ ان کا رہا سہا ایمان بھی جاتا رہے گا اور خدا تعالیٰ کے فضلوں سے بالکل محروم ہو جائیں گے۔وہ بظاہر اس وقت مؤمن نظر آتے ہیں مگر ان کا ایمان اندر سے کھوکھلا ہو چکا ہے، ود وہ