خطبات محمود (جلد 19) — Page 172
خطبات محمود ۱۷۲ سال ۱۹۳۸ء ابتلاء آتے چلے جائیں گے، آتے چلے جائیں گے اور آتے چلے جائیں گے اور جماعت کے کمزور لوگ گرتے چلے جائیں گے ، گرتے چلے جائیں گے اور گرتے چلے جائیں گے یہاں تک کی کہ صرف صادق الایمان لوگ باقی رہ جائیں گے اور انہی کے ہاتھ پر خدا تعالیٰ احمدیت کو فتح دے گا۔اب سوال صرف یہ ہے کہ صادق الایمان کون ہو۔اور میں سمجھتا ہوں ہم میں سے ہر شخص کا فرض ہے کہ وہ اپنے دل میں فیصلہ کرے کہ آیا وہ صادق الایمان لوگوں میں شامل ہونا چاہتا ہے یا گر نے والوں میں۔اگر ایک شخص یہی فیصلہ کرتا ہے کہ میں گرنے والے لوگوں میں شامل ہوں تو میں اُسے کہوں گا کہ تو نے اب تک اس قدر قربانیاں کیوں کیں۔تجھے تو چاہئے تھا کہ آج سے ایک عرصہ پہلے الگ ہو جاتا کیونکہ میں آج جماعت سے قربانیوں کا مطالبہ نہیں کر رہا بلکہ ابتداء کی سے کرتا چلا آیا ہوں۔اور اگر ہم میں سے ہر شخص یہ فیصلہ کرتا ہے کہ گرنے والا دوسرا ہو ، میں گرنے والا نہ بنوں تو اول تو کوشش ہماری یہی ہونی چاہئے کہ دوسروں کو بھی بچائیں اور کسی کو کی گرنے نہ دیں۔لیکن چونکہ خدائی فیصلہ یہی ہے کہ کچھ لوگ گریں گے اس لئے زید یا بکر کے گرنے کی ہمیں کوئی پرواہ نہیں کرنی چاہئے۔اللہ تعالیٰ کی پیشگوئیاں پوری ہو کر رہیں گی۔زمین و آسمان ٹل سکتے ہیں مگر اس کے وعدے نہیں مل سکتے۔ہم نے اپنی آنکھوں سے خدا تعالیٰ کے بہت سے نشانات کو پورا ہوتے دیکھا۔نشان پر نشان اور معجزہ پر معجزہ ہمارے لئے ظاہر ہوا۔کی ایسے ایسے حالات آئے جبکہ دنیوی نقطہ نگاہ سے یہی سمجھا جاتا تھا کہ سلسلہ تباہ ہو جائے گا مگر معاً خدا تعالیٰ نے رنگ بدل دیا اور ایسے حالات پیدا کر دئیے کہ وہ مصیبت اُڑ گئی اور سلسلہ کا وقار پہلے سے بھی زیادہ بڑھ گیا اور منافق یہ کہنے لگ گئے کہ مصیبت تو کو ئی تھی ہی نہیں ، یہ محض بہانہ بنایا گیا تھا ، یہی منافقوں کا طریق ہے۔جب الہی سلسلوں پر کوئی مصیبت آتی ہے منافق کہتا ہے اب یہ تباہ ہو جائیں گے مگر جب ٹل جاتی ہے تو کہتا ہے مصیبت تو کو ئی تھی ہی نہیں ، یہ محض فریب کی کیا گیا تھا۔گویا جب کوئی مصیبت موجود ہو تو وہ اُسے اتنا بڑھاتا ہے، اتنا بڑھاتا ہے کہ اس کی کوئی حد ہی نہیں رہتی۔اور جب ٹل جاتی ہے تو شروع میں تو وہ یہی کہتا ہے کہ ٹلی نہیں مگر جب بالکل ٹل جاتی ہے تو کہتا ہے مصیبت کو ئی تھی ہی نہیں یونہی ڈرانے کیلئے ایک بات بنائی گئی تھی۔