خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 16 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 16

خطبات محمود ۱۶ سال ۱۹۳۸ اسلامی شریعت کا قیام ہمارا اولین فرض ہے فرموده ۱۴ /جنوری ۱۹۳۸ء) تشہد ، تعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔جلسہ سالانہ پر اور اس سے پہلے جو خطبات میں نے بیان کئے ہیں ان میں میں تحریک جدید کے بعض حصوں کے متعلق بیان کرتا رہا ہوں اور آج دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ انسان جب تک خود اپنے سے دشمنی نہ کرے اُس وقت تک کوئی اُس سے دشمنی نہیں کر سکتا۔میرا یہ مطلب نہیں ہے کہ جو شخص اپنا دشمن نہیں ہوتا، دنیا میں اُس کا کوئی دشمن نہیں ہوتا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ جو شخص بچے طور پر اپنے نفس کا خیر خواہ ہوتا ہے وہ لا ز ما باقی دنیا کا بھی خیر خواہ ہوتا ہے لیکن یہ بھی ایک لازمی بات ہے کہ جو شخص دنیا کا خیر خواہ ہوتا ہے دنیا ضرور اس سے دشمنی کرتی ہے۔یہ ہو نہیں سکتا کہ کوئی شخص اپنے نفس کا خیر خواہ ہو اور دنیا کا بدخواہ ہو اور پھر یہ بھی ممکن نہیں کہ کوئی شخص دنیا کا خیر خواہ ہو اور دنیا اُس کی بدخواہ نہ ہو۔جو شخص بھی دنیا کی خیر خواہی کرے لازماً دنیا اس کی دشمن ہوتی ہے۔اور جب میں نے یہ کہا کہ کوئی اُس سے دشمنی کر نہیں سکتا تو میری مراد اس سے یہ ہے کہ اس کے ساتھ دنیا کی دشمنی کا میاب نہیں ہو سکتی۔جس قد را نبیا ء دنیا میں آئے ہیں وہ سب سے پہلے اپنے نفس کے خیر خواہ تھے۔یہی وجہ ہے کہ وہ ہمیشہ اول المؤمنین رہے ہیں۔اس کے معنے یہ ہیں کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے آواز سننے کے بعد معاً اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے سامنے پھینک دیا اور کہا کہ ہم اپنے آپ کو تیرے رستہ میں فنا کر کے