خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 159 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 159

خطبات محمود ۱۵۹ سال ۱۹۳۸ء کو گالیاں دی جاتی ہیں۔مگر تمہیں اس کی توفیق نہیں دی گئی اور سامان نہیں دیئے گئے۔پس معلوم ہوا کہ تمہارے لئے اللہ تعالیٰ نے یہی مقام مقدر کیا ہے کہ تم گالیاں سنوا اور صبر کرو۔( اوپر کی عبارت کو چھوڑ کر پھر مصری صاحب نے ذیل کا فقرہ پچن لیا ہے۔) اور اگر کوئی انسان سمجھتا ہے کہ اس میں مارنے کی طاقت ہے تو میں اسے کہوں گا کہ اے بے شرم تو آگے کیوں نہیں جاتا اور اُس منہ کو کیوں توڑ نہیں دیتا جس منہ سے تو نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو گالیاں دلوائی ہیں۔گندے سے گندے الفاظ حضرت مسیح موعود کی علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق کہے جاتے ہیں۔تم خود دشمن سے وہ الفاظ کہلواتے ہو پھر تمہاری تگ و دو یہیں تک آکر ختم ہو جاتی ہے کہ گورنمنٹ سے کہتے ہو وہ تمہاری مدد کرے۔آگے ذیل کی عبارت پھر انہوں نے چھوڑ دی ہے۔) گورنمنٹ کو کیا ضرورت ہے کہ وہ تمہاری مدد کرے۔کیا اس کا اور تمہارا مذہب ایک ہے یا اس کی تمہاری سیاست ایک ہے؟ گورنمنٹ اگر ہمدردی کرے گی تو ان لوگوں کی جو تمہارے دشمن ہیں؟ کیونکہ وہ اکثریت میں ہیں اور تم اقلیت میں۔اور گورنمنٹوں کو اکثریت کی خوشنودی کی ضرورت ہوتی ہے پس گورنمنٹ کو تم سے کس طرح ہمدردی ہو سکتی ہے۔اُس کو تو اُسی وقت تک ہمدردی تمہارے ساتھ ہو سکتی ہے جب تک تم خاموش رہو اور دشمن کے مقابلہ میں صبر سے کام لو اور اس صورت میں بھی صرف شریف حاکم تمہاری مدد کریں گے اور کہیں گے انہوں نے ہمیں فتنہ و فساد سے بچالیا۔مگر یہ خیال کرنا کہ گورنمنٹ اُس وقت مدد کرے جب دشمن تم کو گالیاں دے رہا ہو اور تم جواب میں اُسے گالیاں دے رہے ہو، نادانی ہے۔اُس وقت اُس کی ہمدردی اکثریت کے ساتھ ہوگی۔کیونکہ وہ جانتی ہے اقلیت کچھ نہیں کر سکتی۔پس گورنمنٹ سے اسی صورت میں تم امداد کی توقع کر سکتے ہو جب خود قربانی کر کے لڑائی اور جھگڑے سے بچو۔اور اُس وقت بھی صرف شریف افسر تم سے ہمدردی کریں گے اور کہیں گے کہ انہوں نے ہماری بات مان لی اور خاموش رہ کر اور صبر کر کے فتنہ و فساد کو بڑھنے نہ دیا۔مگر رذیل حکام پھر بھی تمہارے ساتھ لڑیں گے اور کہیں گے کیا ہوا اگر دشمن کا تھپڑ انہوں نے کھالیا۔وہ زیادہ تھے اور تھوڑے۔اگر اکثریت سے ڈر کر تھپڑ کھا لیا ہے تو یہ کوئی خوبی نہیں۔