خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 153 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 153

خطبات محمود ۱۵۳ سال ۱۹۳۸ء اب تم غور کرو کہ یہ باریک سے باریک مشابہتیں کون پیدا کرا رہا ہے۔قرآن کریم میں کی اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ موسیٰ کی پیشگوئیاں جو تیرے سے یہ حق میں پوری ہوری ہیں کیا تو مدین میں موجود تھا یا تو طور پر موجود تھا کہ موسیٰ۔باتیں تو نے کہلا لیں۔2 اسی طرح میں بھی کہتا ہوں کہ میں تو اُس وقت بچہ تھا۔کیا میں نے مارٹن کلارک اور دوسرے پادریوں کو کہہ دیا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایسا مقدمہ کریں، پھر کیا میں نے عبدالحمید کو اس قسم کا بیان دینے کیلئے تیار کر لیا تھا؟ اور پھر میں نے گورنمنٹ کو کہہ دیا کہ ڈگلس نام کے ایک مجسٹریٹ کی عدالت میں اس کی سماعت کرائے ؟ اور پھر کیا اب بھی میں نے یہ کوشش کی تھی کہ اس نام کے چیف جسٹس اس صوبہ میں آئیں اور وہ مقدمہ عزیز احمد کی سماعت خود کریں؟ پھر کیا میں نے ہی مصری صاحب سے کہا تھا کہ وہ مجھ پر قتل کا دعویٰ کر دیں تا کہ میری مشابہت حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ثابت ہو جائے ؟ اگر یہ سب باتیں منصوبہ ہیں تو پھر مصری صاحب بھی اس میں شامل ہیں اور وہ مخالفت سے نہیں بلکہ جان بوجھ کر مجھ سے الگ ہوئے ہیں تا کہ وہ ایسی مشابہت کے سامان پیدا کریں۔کہا جاسکتا ہے کہ جس مجسٹریت نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقدمہ کا فیصلہ کیا تھا، ان کے نام کا آخری حصہ ڈگلس تھا۔اور موجودہ چیف جسٹس کے نام کا یہ پہلا حصہ ہے اور یہ فرق ہے۔سو یا د رکھنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ نے اس کا علاج بھی کر دیا ہے اور وہ یہ کہ جن صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقدمہ کا فیصلہ کیا تھا وہ مسٹر تھے اور چیف جسٹس صاحب نائٹ نے ہیں۔اور انگریزی قوم کا دستور ہے کہ جو نائٹ نہ ہوں اُن کے نام کا آخری حصہ بولا جاتا ہے اور جو نائٹ ہوں اُن کے نام کا پہلا حصہ پکارا جاتا ہے۔اس طرح بولنے میں وہ صاحب کیپٹن ڈگلس کہلائیں گے اور چیف جسٹس صاحب سر ڈگلس کہلائیں گے اور نام کی مشابہت بولنے کے ذریعے سے پوری طرح قائم رہے گی۔غرض اس مقدمہ نے بھی میری حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے مشابہت ثابت کی ہے اور یہ امر دشمن کیلئے یقیناً ذلت کا موجب ہے مگر ان سب باتوں کے باوجود مصری صاحب اور ان کے ساتھی یہی کہتے پھرتے ہیں کہ اپیل مسترد ہوگئی ، بڑی ذلت ہوئی حالانکہ یہ استرداد