خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 133 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 133

خطبات محمود ۱۳۳ سال ۱۹۳۸ء ہمیں دیا مگر بیہودہ غصہ اور نا واجب غضب کا اظہار بیوقوفی ہے۔اگر اس وقت جب کہ تم کمزوری ہو اور تمہاری مثال دنیا کے مقابلہ میں بتیس دانتوں میں زبان کی سی ہے مخالفین کی حرکات پر تمہیں غصہ آتا ہے اور تم اپنے جذبات کو قابو میں نہیں رکھ سکتے تو یاد رکھو جب ہمیں بادشاہت حاصل ہوگی اُس وقت ہمارے آدمی دشمنوں پر سخت ظلم کرنے والے ہوں گے۔پس آج ہی اپنے نفوس کو ایسا مارو ایسا ما رو کہ جب اللہ تعالیٰ تمہیں یا تمہاری اولادوں کو بادشاہت دے تو تم ظلم کرنے والے نہ بنو اور تمہارے اخلاق اسلامی منہاج پر سُدھر چکے ہوں۔اگر آج تم صبر سے بھی کام لیتے ہو تو دنیا کی نگاہ میں یہ کوئی خوبی نہیں کیونکہ کمزوری کے وقت ظلم کو برداشت کر لینا کوئی کمال نہیں ہوتا۔دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت مسیح ناصری سے مقابلہ کرتے ہوئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہی دلیل پیش کی ہے کہ مسیح ناصری کا حلم اپنے اندر کیا حقیقت رکھتا ہے جبکہ انہیں سختی کرنے کا موقع ہی نہیں ملا۔اور ان کی نیکی اپنے اندر کیا حقیقت رکھتی ہے جبکہ بدی کے مواقع ہی انہیں پیش نہیں آئے۔ایک عنین اگر یہ کہے کہ میں بڑا عفیف کی ہوں ، ایک اندھا اگر یہ کہے کہ میں نے کبھی بدنظری نہیں کی ، ایک بہرا اگر یہ کہے کہ میں نے کبھی تج غیبت نہیں سنی تو یہ کوئی خوبی اور کمال نہیں۔خوبی اور کمال یہ ہے کہ انسان مخالف حالات میں سے گزرے اور پھر اپنے زہد والقاء کا شاندار نمونہ دکھائے۔پس ہمارا آجکل کے زمانہ میں جب کہ ہم کمزور ہیں اور ہمیں کوئی طاقت حاصل نہیں مظلوم ہونا اور تمام مظالم کو برداشت کرتے چلے جانا دنیا کی نگاہ میں کوئی خوبی نہیں۔گو خدا کی نگاہ میں ہے کیونکہ جب ہم اسی کی رضاء کیلئے اپنے نفسوں کو مارتے اور جذبات کو دبا دیتے ہیں تو یقیناً اس کی نظر میں مقبول ہیں۔مگر دنیا اس امر کو کی نہیں سمجھتی۔وہ خیال کرتی ہے کہ چونکہ اس وقت یہ کمزور ہیں اس لئے مظالم برداشت کرتے چلے جارہے ہیں جیسے ہر کمزور طاقتور کے مقابلہ میں جھکا رہتا ہے۔پس چونکہ دنیا ہمارے صبر کو کمزوری اور ہمارے عفو کو ضعف پر محمول کرتی ہے اس لئے اس کا جواب یہی ہے کہ جب خدا کی ہماری جماعت کو طاقت دے تو اُس وقت بھی وہ عدل اور انصاف کے دامن کو نہ چھوڑے اور اپنے ہاتھ کو ظلم سے رو کے اور اس طرح اپنے عمل سے بتادے کہ کمزوری اور طاقت ہر دو حالتوں میں محض خدا کیلئے اس نے ہر کام کیا۔