خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 117 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 117

خطبات محمود 112 سال ۱۹۳۸ء۔کہاں رکھے گا اور اس کے قدم کس جگہ نکلیں گے۔تم کہو گے زمین پر۔مگر روحانی جنگ زمین کی پر نہیں لڑی جاتی بلکہ وہ جنگ دلوں میں کی جاتی ہے، وہ جنگ دماغوں میں کی جاتی ہے اور جو جنگ دلوں اور دماغوں میں کی جانی ہو وہاں روحانی ہتھیاروں کی ہی ضرورت ہوگی اور وہ کی روحانی ہتھیار تقویٰ و طہارت اور وہ معارف و علوم ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے دل پر نازل ہوتے ہیں۔اگر کسی شخص کا دل اور دماغ اپنا نہیں تو وہ ان چیزوں کو رکھے گا کہاں ؟ پس روحانی جماعتوں کو اپنے دل اور اپنے دماغ کی صفائی کی طرف سب سے زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔جس شخص کا دماغ صاف نہیں اس کے افکار صاف نہیں ہو سکتے کیونکہ تدبر کا تعلق فکر کے ساتھ ہوتا ہے اور جس شخص کا دل صاف نہیں اس کا تقوی صاف نہیں ہوسکتا اور جس کا تقویٰ صاف نہیں اسے خدا تعالیٰ کی نصرت اور تائید کبھی حاصل نہیں ہوسکتی کیونکہ جذبات کا اصل مقام دل ہے گوان کا ظہور دماغ کے اعصاب کے ذریعہ سے ہوتا ہے۔سائنسدان اس بات پر بخشیں کرتے چلے آئے ہیں کہ انسانی روح کا منبع در حقیقت دماغ کی ہے دل نہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ روح کی حقیقت کو نہیں پاسکے۔حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ انسانی روح کا جیسا کہ انبیاء علیہم السلام کی تعلیموں اور رویا وکشوف سے پتہ چلتا ہے دل سے تعلق ہے۔ہاں دماغ چونکہ منبت اعصاب ہے اس لئے قلبی علوم کو محسوس کرنا اور دل کے علوم مخفیہ سے مستفیض ہونا اس کا کام ہے۔یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حیات کا مقام دل کو قرار دیا ہے دماغ کو نہیں۔اور روح کا سب سے گہرا تعلق اُسی عضو سے ہو سکتا ہے جو انسانی جسم میں سب سے اہم حیثیت رکھتا ہو اور جس کا کام سب سے نمایاں ہو اور وہ اہم کام دل کا ہی ہے دماغ کا نہیں۔دل کی ایک سیکنڈ کی حرکت بند ہونے سے کلی طور پر انسان پر موت وارد ہو جاتی ہے لیکن دماغ میں کی اگر کوئی فتور پیدا ہو جائے تو گو اس وجہ سے کہ دماغ کا کام علوم قلبیہ کو محسوس کرنا ہے ، علوم پر دہ کی میں آجاتے ہیں لیکن ضروری نہیں کہ انسان پر موت بھی وارد ہو جائے۔تو دماغ خادم ہے اور دل وہ اصل مرکز ہے جہاں اللہ تعالیٰ اپنے انوار نازل فرماتا ہے۔خیر یہ تو ایک لمبی بحث ہے جس میں میں اس وقت نہیں پڑنا چاہتا۔میں جو کچھ کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ ایک مؤمن کیلئے اپنے دل اور دماغ کی صفائی نہایت ضروری ہوتی ہے۔ایک شخص خواہ فلسفیوں کے تتبع میں تدبر