خطبات محمود (جلد 19) — Page 948
خطبات محمود ۹۴۸ سال ۱۹۳۸ء ہندو دوستوں کے لئے جب الگ انتظام کیا گیا تو ان میں سے بعض نے انکار کر دیا اور کہا کہ جس طرح باقی لوگ رہتے ہیں ہم اسی طرح رہیں گے ہمارے لئے کسی الگ انتظام کی ضرورت نہیں۔درحقیقت اس قوم میں دیر سے تعلیم ہونے کی وجہ سے وقار پیدا ہو گیا ہے اور ایسی سعادت کے آثاران میں پائے جاتے ہیں جو بہت ہی قابل تعریف ہیں لیکن پھر بھی ہم ہندو دوستوں کے لئے الگ انتظام کرنے کے لئے ہر وقت تیار ہیں۔پس دوستوں کو چاہئے کہ وہ آئندہ سال خصوصیت کے ساتھ ہندو دوستوں کو اپنے ہمراہ لانے کی کوشش کریں۔غرض تبدیلی مذہب کے نقطہ نگاہ سے ہر بات کو نہیں دیکھنا چاہئے اور محض اس وجہ سے ان کو اپنے ہمراہ لانے میں کوتاہی نہیں کرنی چاہئے کہ انہوں نے کونسا مسلمان ہو جانا ہے کیونکہ ان کو یہاں لانے کی غرض صرف یہی نہیں کہ وہ مسلمان ہو جائیں بلکہ ہماری غرض یہ بھی ہے کہ وہ احمدیت کا نقطہ نگاہ سمجھنے کے قابل ہو جائیں اور انہیں پتہ لگ جائے کہ ہم کیا کہتے ہیں۔پس میں دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلا دیتا ہوں اور چونکہ آج بہت سے دوستوں نے ساڑھے تین بجے کی گاڑی سے واپس جانا ہے اس لئے خطبہ کو ختم کرتا ہوں۔ہاں یہ اعلان کر دینا چاہتا ہوں کہ میں جمعہ کی نماز کے ساتھ ہی عصر کی نماز جمع کر کے پڑھاؤں گا تا کہ وہ دوست جنہوں نے جانا ہے جاسکیں۔(الفضل ۱۷ جنوری ۱۹۳۹ ء )