خطبات محمود (جلد 19) — Page 947
خطبات محمود ۹۴۷ سال ۱۹۳۸ء پر یہاں آنے کی تحریک کی جائے۔غیر احمدیوں میں اپنا کرایہ خرچ کر کے آنے والوں کی تعداد کم کی ہوتی ہے اور ان لوگوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے جو دوسروں کے کرایہ پر یہاں آتے ہیں مگر ہندوؤں میں ان لوگوں کی تعداد زیادہ ہے جو اپنے کرایہ پر یہاں آتے ہیں اور ان لوگوں کی تعداد کم ہے جو دوسروں کے کرایہ پر یہاں آتے ہیں۔پس اگر ہند و دوستوں کو آئندہ کوشش کر کے اپنے ہمراہ لایا جائے تو وہ ہماری جماعت کے دوستوں پر بوجھ بھی نہیں بنیں گے اور فائدہ بھی زیادہ ہوگا۔بے شک وہ مسلمان نہ ہوں لیکن اگر } وہ یہ سمجھ کر یہاں سے جائیں کہ احمدی ایسے برے نہیں ہوتے جیسا کہ ان کو سمجھا جاتا ہے تو میں سمجھتا ہوں یہ بھی ایک بہت بڑا فائدہ ہے۔ایسا شخص ہر جگہ ہمارا ایک قسم کا مبلغ ہوتا ہے اور جب بھی جماعت پر کوئی اعتراض ہو رہا ہو تو وہ اس کا رد کرنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔ایک ہند و صاحب اسی جلسہ سالانہ پر آئے ہوئے تھے ، دوستوں نے سنایا کہ یہ ہر وقت ہماری ہی تبلیغی کرتے رہتے ہیں۔انہوں نے وہ دلائل یا د کر لئے ہیں جو وفات مسیح وغیرہ کے ثبوت میں ہماری طرف سے پیش کئے جاتے ہیں اور جب کوئی ایسا موقع پیش آتا ہے جب کسی غیر احمدی مولوی سے وفات مسیح پر بحث کرنے کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ کہتے ہیں مرکز سے مبلغ کیا منگوانا ہے میں اس سے بحث کرتا ہوں۔چنانچہ وہ قرآن کریم کے رو سے حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات ثابت کرنے لگ جاتے ہیں اور ایسی اعلیٰ درجہ کی بحث کرتے ہیں کہ مخالف مولوی لا جواب ہوتے ہیں۔دوستوں نے سنایا کہ ان میں تبلیغ کا ایسا اعلی ملکہ پیدا ہو گیا ہے کہ مخالف مولویوں کا ناطقہ بند کر دیتے ہیں۔اسی طرح سیالکوٹ کے ضلع میں ایک ہند و صاحب ہیں اُن کے متعلق بھی دوستوں نے بتایا کہ انہوں نے اسلامی مسائل خوب یاد کر لئے ہیں اور مخالفوں سے ہماری جگہ بخشیں کرتے رہتے ہیں۔تو یہ ایک بھاری فائدہ ہے جو اس دفعہ ہمیں حاصل ہوا ہے اور میں دوستوں کو تحریک کرتا ہوں کہ وہ آئندہ ہند و صاحبان کو بہت کثرت کے ساتھ اپنے ہمراہ لانے کی کوشش کریں۔ہم ان کے کھانے کا الگ انتظام کرنے کے لئے تیار ہیں۔ایک ہندو باور چی رکھ کر ان کے لئے کھانا تیار کیا جا سکتا ہے۔گواب ہندوؤں کا تعلیم یافتہ طبقہ مسلمانوں کے ساتھ کھانے پینے لگ گیا ہے لیکن پھر بھی ان کے لئے الگ انتظام کیا جاسکتا ہے۔گو اس دفعہ