خطبات محمود (جلد 19) — Page 931
خطبات محمود ۹۳۱ سال ۱۹۳۸ء ہو سکتی۔وہ حد فاصل جو اس وقت مختلف طبقات اور مختلف ممالک کے لوگوں کے درمیان قائم ہے جب تک اسے دور نہ کیا جائے کامیابی محال ہے اور اسے دور کرنے کا ذریعہ یہی ہے کہ کثرت سے ایک دوسرے سے ملاقاتیں کی جائیں تا کہ آہستہ آہستہ پنجابی ، بنگالی ، بہاری ، مدراسی اور پھر ہندوستانی ، چینی ، جاپانی، انگریز اور مصری کا امتیاز مٹ کر سب ایسے ہی انسان نظر آنے لگیں جیسا خدا تعالیٰ نے ان کو بنایا ہے اللہ تعالیٰ نے تو ہم سب کو انسان ہی پیدا کیا ہے آگے انگریز ، اور ہندی اور چینی وغیرہ کا فرق تو انسان نے خود بنالیا ہے اور ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ پھر اسی کی طرح کے انسان بن جائیں جیسا کہ خدا تعالیٰ نے بنایا ہے اور اس وقت با ہمی بُعد پیدا ہو کر جو غیریت نظر آتی ہے وہ مٹ جائے۔بے شک ابتداء میں ملاقات ہو تو بجائے محبت کے ایک قسم کا تنفر ہوتا ہے مگر وہ آہستہ آہستہ ملتے رہنے سے دور ہو جاتا ہے۔اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کوئی جنگلی طوطا یا بے سدھا گھوڑالا یا جائے تو پہلے پہل وہ خوب شور کرتا ہے مگر آہستہ آہستہ وہی طوطا ہاتھ پر کھانا کھانے لگتا ہے اور گھوڑا سواری کے کام آتا ہے۔پس ان امتیازات کو مٹانے کی کے لئے ضروری ہے کہ باہم ملاقاتیں کی جائیں۔اس میں شک نہیں کہ کچھ نہ کچھ اختلافات تو رہتے ہیں مگر یہ ایسے اختلاف ہوتے ہین جن کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اِخْتِلَافُ اُمَّتِی رَحْمَةٌ کے لیکن جب یہ اختلافات لڑائی کا موجب ہو جائیں تو سمجھ لو کہ خدا تعالیٰ کے نزدیک اُمت سے نکل گئے۔پس ان ایام کو زیادہ سے زیادہ عمدہ کاموں میں صرف کر وسلسلہ کی مشکلات کو دیکھو۔ناظروں کو چاہئے کہ ان ایام میں اپنے اوقات کو زیادہ سے زیادہ فارغ رکھیں اور کثرت سے کی ملاقاتیں کریں، دوستوں سے مشورے کریں، ان کے سامنے اپنی مشکلات رکھیں اور دوست دیکھیں کہ وہ سلسلہ کے کاموں میں کہاں تک مدد کر سکتے ہیں اور اس طرح یہ ایام ناظروں کی کا نفرنس کے ایام ہونے چاہئیں مگر شاید کارکنوں کی کمی یا اپنی بزدلی کی وجہ سے وہ ایسا کرتے نہیں۔بزدلی کی وجہ سے میں نے اس لئے کہا ہے کہ بعض ناداں کہہ دیا کرتے ہیں کہ ناظر خود تو کوئی کام کرتے نہیں دوسروں سے ہی لیتے ہیں اور اس لئے وہ بھی یہ خیال کرتے ہیں کہ اگر ہم کام کرنے میں دوسروں کے ساتھ شریک نہ ہوئے تو لوگ اعتراض کریں گے اور اس لئے کی