خطبات محمود (جلد 19) — Page 904
خطبات محمود ۹۰۴ سال ۱۹۳۸ء آپ نے فرما دیا کہ اب کوئی ہجرت نہیں۔جو باہر آرام اور سہولت سے رہتے ہوں ، ان کے کام چلتے ہوں، انہیں ملازمتیں حاصل ہوں ، ان کی تجارتیں اعلیٰ پیمانہ پر ہوں اور ہر طرح کی فارغ البالی اور اطمینان انہیں نصیب ہو مگر پھر بھی وہ اپنے آرام و آسائش کو قربان کر کے محض خدا اور اس کے رسول کی رضا مندی کے لئے قادیان آ کر رہائش اختیار کر لیں اور کہیں کہ ہم اپنی زندگی خدمت دین کے لئے وقف کرتے ہیں۔روپیہ ہمارے پاس کافی ہے۔جائداد ہمارے پاس وافر ہے مگر ہم چاہتے ہیں کہ ہم سے خدا تعالیٰ کے دین کا بھی کوئی کام ہو جائے اور ہم اپنی تمام زندگی اب اشاعت اسلام اور اشاعتِ احمدیت کے لئے صرف کر دیں گے۔یا وہ دوست سچے مہاجر ہیں کہ جن کے پاس مال اور روپیہ تو نہ ہو مگر وہ اپنے جسموں اور وقتوں کو خدا کی راہ میں خرچ کرنے کی نیت سے گھر سے نکلیں اور اپنی زندگیوں کو اشاعتِ اسلام و احمدیت کے لئے سلسلہ کی راہ میں اُسی طرح خرچ کریں اور کرنے کے لئے تیار رہیں جس طرح کہ صحابہ نے کیا۔یہی اصل مہاجر ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں جن کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ کی ان کا قادیان میں آنا ضروری ہے مگر وہ جو باہر کی مشکلات سے ڈر کر قادیان آتا ہے یا اس لئے آتا ہے کہ باہر اس کا کام نہیں چلتا تھا مگر یہاں احمدیوں کی کثرت کی وجہ سے اُسے اپنی تجارت میں ترقی کی اُمید ہوتی ہے وہ مہاجر نہیں بلکہ وہ بزدل اور بھگوڑا ہے۔وہ لڑائی کے میدان سے بھاگنے والا انسان ہے۔اس کے ٹھہرنے کا مقام بھلا قادیان کس طرح ہو سکتا ہے؟ کیا قادیان بھگوڑوں اور بزدلوں کی رہائش کی جگہ ہے؟ ان کی مثال بالکل ایسی ہی ہے جیسے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد جب عرب میں چاروں طرف ارتداد کا طوفان پھیل گیا اور صرف تین جگہ اسلامی حکومت رہ گئی باقی تمام مقامات میں بغاوت رونما ہو گئی اور مرتدین نے مسلمانوں پر حملہ کر دیا تو اس وقت بڑی خطرناک جنگ ہوئی۔اس جنگ میں سے بعض مسلمان دشمن کے حملہ کی تاب نہ لا کر بھاگے اور مدینہ آگئے۔حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس کا علم ہوا تو آپ نے حکم دیا کہ وہ مدینہ سے چلے جائیں اور یہ اعلان فرما دیا کہ آئندہ ان کو کی مدینہ میں داخل ہونے کی کبھی اجازت نہ ہو گی۔حالانکہ وہ میدانِ جنگ سے عارضی طور پر بھاگ کر آئے تھے مستقل طور پر بھاگ کر نہیں آئے تھے مگر باوجود اس کے کہ وہ تھوڑی دیر کے