خطبات محمود (جلد 19) — Page 897
خطبات محمود ۸۹۷ سال ۱۹۳۸ ء انہیں سمجھائیں اور بتائیں کہ یہ اقدام تمہارے فائدہ کے لئے ہے، تمہیں نقصان پہنچانے کے لئے نہیں۔ پس اگر اس قسم کے تعلقات غیروں سے رکھے جائیں اور ان کے حقوق کی ویسی ہی نگہداشت کی جائے جیسے اپنے حقوق کی کی جاتی ہے تو یقیناً نتیجہ پہلے سے بہتر ہو گا ۔ میں مانتا ہوں کہ ہماری جماعت کی مخالفت ہے اور وہ مخالفت ایسے رنگ میں ہے کہ اب وہ اُس وقت تک مٹ نہیں سکتی جب تک دنیا ہماری طرف سے نا اُمید نہ ہو جائے اور اسے یہ یقین نہ ہو جائے کہ اب یہ جماعت کسی صورت میں بھی مٹائے مٹ نہیں سکتی بلکہ ہمیشہ قائم رہنے والی ہے لیکن بہر حال جب تک یہ حالت پیدا نہ ہو اُس وقت تک ہم پر مخالفوں کی طرف سے ناجائزاء نا جائز اعتراضات ہونے ضروری ہیں مگر اس وجہ سے اُن کے کسی جائز اعتراض کو ہم نظر انداز نہیں کر سکتے ۔ میں جانتا ہوں کہ مخالف لوگ میرے اس خطبہ سے فائدہ اُٹھائیں گے اور وہ کہیں گے کہ جماعت احمد یہ کے امام نے اپنی جماعت کے لوگوں کو جھاڑا لیکن مجھے اس بات کی پرواہ نہیں کہ لوگ کیا کہتے ہیں ۔ - مجھے جس چیز کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ ہمارے اخلاق ایسے اعلیٰ ہوں کہ ہم خدا کے نزدیک بالکل بری الذمہ ہوں اور ہم پر یہ الزام عائد نہ ہو سکے کہ ہم نے کسی کے حقوق کو تلف کر دیا۔ پس با وجود اس علم کے کہ یقیناً میری اس بات سے دُشمن ناجائز فائدہ اُٹھائے گا میں یہ کہنے سے رک نہیں سکتا کہ میرے لئے یہ بات نا قابلِ برداشت ہے کہ ہمارے سپرد ایک کام کیا جائے اور ہم اس میں کوئی جنبہ داری یا غفلت کا پہلو اختیار کریں ۔ ہمیں خدا تعالیٰ نے خدمت خلق کے لئے کھڑا کیا ہے اور یہ خدمت خلق ہمارے لئے ایسی ہی ضروری ہے جیسے دوسروں کے لئے ۔ بلکہ چونکہ وہ ہم پر شک کرتے ہیں کہ ہم اپنی اکثریت سے ناجائز فائدہ اُٹھاتے ہیں اس لئے اگر ہم اُن کا کچھ لحاظ کر دیا کریں تو یہ نہ صرف ہمارے لئے ضروری ہے بلکہ واجب ہے کہ ہم ایسا کریں ۔ پس ان معاملات میں ممبران کمیٹی جس جس وارڈ کی طرف سے منتخب ہوں ان کا فرض ہے کہ وہ اپنے وارڈ کے لوگوں کے حقوق کی حفاظت کریں ۔ یقیناً تمام گلیوں کی پوری صفائی ہونی چاہئے خواہ وہ گلی ہندوؤں کی ہو یا سکھوں کی ہو یا غیر احمد یوں کی ہو اور میں سمجھتا ہوں ایک وارڈ کی طرف سے جو ممبر بھی منتخب ہو اس کا فرض ہے کہ وہ اپنے وارڈ کے لوگوں کے جائز حقوق کی حفاظت کرے ۔