خطبات محمود (جلد 19) — Page 895
خطبات محمود ۸۹۵ سال ۱۹۳۸ ء ہوتے جگہ میں جہاں کی آبادی اپنے ساتھ خاص نوعیت رکھتی ہے گل چھ وارڈ بنائے گئے ہیں جن میں سے چار شہر میں رکھ دیئے گئے ہیں جس کی آبادی باہر کی آبادی کے مقابلہ میں کم ہے۔ مردم شماری کے رو سے شہر کی آبادی تین ہزار کے قریب ہے لیکن قادیان کی کل آبادی دس ہزار کے قریب ہے۔ تو تین ہزار یا اب وہ ترقی کر کے اور مہمانخانہ وغیرہ ڈال کر ساڑھے تین ہزار ہو گی ۔ بہر حال وہ کل آبادی کے نصف سے بھی کم ہے۔ اس کے تو گورنمنٹ نے چار بلکہ شاید پانچ وارڈ بنا دیئے ہیں لیکن بیرونی آبادی کے لئے دو یا تین وارڈ رکھے ہیں۔ حالانکہ احمدی آبادی قدرتی طور پر باہر زیادہ بڑھ رہی ہے کیونکہ اب زیادہ تر ایسے لوگ آتے ہیں جو زیادہ آسودہ حال اور تعلیم یافتہ ہوتے رتے ہیں اور وہ شہر سے باہر ھلی ہوا ہ شہر سے باہر کھلی ہوا میں اپنے مکان بنانے کے خواہشمند ہو۔ ہیں ۔ گورنمنٹ کی اپنی مردم شماری کے رو سے قادیان میں احمدی ۷۵ فیصدی سے زیادہ ہیں ۔ اب ۷۵ فیصدی کے لحاظ سے اگر آٹھ ممبریاں ہوں تو چھ ممبریاں احمدیوں کو ملنی چاہئیں اور دوممبریاں دوسری قوموں کو ملنی چاہئیں لیکن ممبریاں ہیں سات جن میں سے پانچ احمدیوں کے پاس ہیں اور دو غیروں کے پاس۔ ان دو میں سے ایک ممبر ایسی آبادی کی طرف سے جو ڈیڑھ دوسو کی تعداد رکھتی ہے باقاعدہ طور پر نامزد ہوتا چلا آ رہا ہے۔ اس کے مقابلہ میں ایک دوسری جماعت جن کے ساتھ آٹھ سو آدمی ہیں ان کو گورنمنٹ ہمیشہ نظر انداز کرتی چلی آئی ہے۔ ادھر اکثریت قدرتی طور پر یہ جدو جہد کرتی ہے کہ وہ اپنے حقوق کو پورے طور پر حاصل کرے اور کسی لحاظ سے اسے نقصان نہ رہے اور آخر ۷۵ فیصدی آبادی رکھنے والے کب یہ برداشت کر سکتے ہیں کہ انہیں پچاس یا چالیس فیصدی بنا دیا جائے مگر جیسا کہ میں نے بتایا ہے اس میں مشکلات گورنمنٹ کی طرف سے ہیں ۔ اگر وہ زیادہ وارڈ بناتی اور صحیح طور پر بناتی تو یقیناً یہ دقت پیش نہ آتی اور جیسا کہ میرے ساتھ کام کرنے والے واقف ہیں میں موجودہ حالات میں بھی کہتا رہتا ہوں کہ ان کے لئے نمائندگی کی کوئی نہ کوئی صورت ہونی چاہئے ۔ مجھے کہا جاتا ہے کہ اگر ان کی نمائندگی کی کوئی صورت پیدا کی جائے تو ۷۵ فیصدی آبادی کے حقوق تلف ہو جائیں گے اور میرے نزدیک یہ بات بھی ایسی ہے جسے کسی صورت میں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔ پس جب تک گورنمنٹ پر زور دے کر اس نقص کی اصلاح نہ کرالی جائے اُس وقت تک