خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 865 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 865

خطبات محمود ۸۶۵ سال ۱۹۳۸ ء شریف اسی رنگ میں بدلے لیا کرتے ہیں مگر جیسا کہ میں نے بتایا ہے بعض دفعہ جب بات حد سے بڑھ جاتی ہے تو پھر کسی حد تک ان باتوں کا جواب بھی دینا پڑتا ہے۔ عیسائی ہمیشہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر حملے کیا کرتے تھے اور مسلمان چونکہ ان کے حملوں کا جواب نہیں دیا کرتے تھے۔ اس لئے وہ یہ سمجھتے تھے کہ اسلام کے کے بانی میں عیب ہی عیب ہیں اگر کسی میں عیب نہیں تو وہ یسوع کی ذات ہے وہ مسلمانوں کی شرافت کے غلط معنی لیتے تھے۔ وہ سمجھتے تھے چونکہ ہم گندا چھالتے ہیں اور یہ نہیں اُچھالتے اس لئے معلوم ہوا کہ واقع میں ان کے سردار میں یہ باتیں پائی جاتی ہیں۔ دنوں کے بعد دن گزرے، ہفتوں کے بعد ہفتے ، سالوں کے بعد سال اور صدیوں کے بعد صدیاں سات آٹھ سو سال تک عیسائی متواتر گندا چھالتے رہے اور مسلمان انہیں معاف کرتے رہے ۔ آخر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے اجازت دی کہ اب ذرا تم بھی ہاتھ دکھاؤ اور انہیں بتاؤ کہ ہمیں تم میں کوئی عیب نظر آتا ہے یا نہیں چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یسوع کو مخاطب کرتے ہوئے وہ باتیں لکھنی شروع کیں جو یہودی آپ کے متعلق کہا کرتے تھے یا خود مسیحیوں کی کتابوں میں لکھی تھیں ۔ ابھی اس قسم کی دو چار کتابیں ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لکھی تھیں کہ ساری عیسائی دنیا میں شور مچ گیا کہ یہ طریق اچھا نہیں ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ یہی ہم نے تم کو کہا تھا کہ تمہارا طریق اچھا نہیں مگر تم نے ہماری بات کو نہ سمجھا ۔ آخر جب خود تم پر زد پڑنے لگی تو تمہیں ہوش آ گیا اور تم کہنے لگ گئے کہ یہ طریق درست نہیں ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بعض دفعہ اس کے متعلق ایک لطیفہ بھی بیان فرمایا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ بعض دفعہ حقیقت معلوم کرنے اور دوسرے کا جائزہ لینے کے لئے انسان کو ایسا طریق بھی اختیار کرنا پڑتا ہے جو عام طریق کے مخالف ہوتا ہے ۔ چنانچہ آپ فرماتے کہ کوئی سکھ صاحب تھے ان کی بڑی بڑی مونچھیں تھیں ، داڑھی بھی ان کی بڑی لمبی تھی اور چہرے پر قدرتی طور پر بال بھی بہت زیادہ تھے۔ سکھوں میں چونکہ مذہباً بال کٹوا نے منع ہیں اس لئے ان کے بال بے تحاشا بڑھے ہوئے تھے وہ ایک دن اپنے چبوترہ پر بیٹھے تھے اور بالوں کی کثرت کی وجہ سے حال یہ تھا کہ ان کے ہونٹ بالکل چھپے ہوئے تھے مسلمان چونکہ مونچھیں کترواتے رہتے ہیں اس لئے ان کے ہونٹ