خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 85 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 85

خطبات محمود ۸۵ سال ۱۹۳۸ء دربار میں ایک اعرابی آیا اور شکایت کی کہ مجھ پر بہت ظلم ہوا ہے۔میرا ایک داماد میر احق مارتا ہے میرا انصاف کریں۔عربی زبان میں لفظ ختن داماد اور خسر اور سالے وغیرہ کیلئے بولا جاتا ہے۔یعنی وہ رشتے جو بیوی یا لڑکی کی طرف سے ہوں۔ولید نے اُس سے پوچھا کہ مَنْ خَتَنَكَ؟ اس نے جواب دیا کہ مجھے نام معلوم نہیں۔قبیلہ کے کسی آدمی نے ایسا کیا ہے جسے میں جانتا نہیں۔ولید نے کہا کہ یہ عجیب آدمی ہے۔کہتا ہے کہ میرا انصاف کریں اور جب میں پوچھتا ہوں کہ تمہارا داماد کون ہے؟ تو کہتا ہے کہ نام معلوم نہیں۔ولید نے حضرت عمر بن عبدالعزیز کی طرف دیکھا۔انہوں نے اس اعرابی سے کہا کہ امیر المؤمنین کہتے ہیں کہ مَنْ خَتَنْكَ؟ تو اُس نے فوراً جواب دیا کہ وہ باہر دروازہ پر کھڑا ہے۔اس پر ولید نے کہا کہ یہ کیا بات ہے؟ میں نے بھی اس سے یہی سوال کیا تھا مگر اس نے کہا پتہ نہیں اور آپ نے بھی یہی کہا ہے مگر اس نے کہا وہ کی باہر کھڑا ہے۔حضرت عمر بن عبد العزیز نے کہا کہ یہ وہی بات ہے جو میں آپ سے روز کہتا کی ہوں۔آپ نے کہا تھا مَنْ خَتَنَكَ اور زبر کے ساتھ یہ فعل بن جاتا ہے جس کے معنی یہ کی ہو جاتے ہیں کہ تمہارا ختنہ کس نے کیا تھا؟ اور اس کا جواب اس نے یہ دیا کہ قبیلہ کا کوئی آدمی ہو گا جس نے میرا ختنہ کیا تھا مجھے اُس کا نام معلوم نہیں اور میں نے خَتَنگ پیش سے کہا ہے جو اسم ہے اور اس کے معنے ہیں کہ تیرا داماد کون ہے؟ تو اس نے صحیح جواب دیا۔اسی واقعہ کی وجہ سے ولید کو توجہ ہوگئی اور اُس نے کہا میں جب تک علم نہ سیکھ لوں نماز کیلئے دوسرا امام مقرر کروں گا خود نہیں پڑھاؤں گا۔تو دوسرے کی طرف سے جب اعتراض پیدا ہو تو انسان کو اپنی غلطیوں کی اصلاح کی طرف توجہ ہوتی ہے۔حضرت عمر پہلے سے کہتے رہتے تھے مگر توجہ نہ ہوتی تھی۔جب غیر سے بات ہوئی اور اپنی کمزوری معلوم ہوئی اور شرمندگی اُٹھانی پڑی تو کی اس کو توجہ ہوئی۔بیسیوں علوم ایسے ہوتے ہیں جن کا بحث مباحثہ کے بعد پتہ لگتا ہے اس لئے دوستوں کو چاہئے کہ وہ تبلیغ کیلئے باہر نکلیں تا ان کا اپنا علم بھی ترقی کرے اور جماعت بھی بڑھے۔اللہ تعالیٰ ہماری مستیوں کو دور کر کے ہم میں فرض شناسی کا مادہ پیدا کرے۔“ 66 (الفضل ۱۹ رفروری ۱۹۳۸ء)