خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 841 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 841

خطبات محمود ۸۴۱ سال ۱۹۳۸ ء آرام کے وقت عقل سے کام نہیں لیتے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مدت العمر مقروض رہتے ہیں اور فصل پکنے کے بعد بنیا آتا ہے اور غلہ اٹھا کر لے جاتا ہے حالانکہ اگر اس مصیبت کے آنے سے پہلے وہ آدھی مصیبت بھی اُٹھا لیتے تو نہ قرض لینے کی نوبت آتی اور نہ بنیا آکر اس طرح سب کچھ لے جاتا۔ پس یہ تحریک صرف امراء کیلئے ہی نہیں بلکہ غریبوں کیلئے بھی تھی لیکن امراء تو خیال کرتے ہیں کہ ہمارا گزارہ تو اچھا چل رہا ہے ہمیں پس انداز کرنے کی کیا ضرورت ہے جب کہ آمد کافی ہے حالانکہ وہ بھی حادثات کا شکار ہو سکتے ہیں اور غریب سمجھتے ہیں کہ ہم نے جمع کیا کرنا ہے ہمارے پاس ضرورت سے زیادہ ہے ہی نہیں مگر یہ وہ کر لیتے ہیں کہ پہلے قرض لے لیا اور پھر جمع کر کے اسے ادا کر دیا۔ گویا وہ جمع تو کرتے ہیں مگر ایک ایسے صندوق میں جس کے نیچے سوراخ ہو اور جو کچھ اس میں ڈال ڈالیں وہ دوسرے رستے سے سے نکلتا جائے ۔ وہ جو کچھ اس میں ڈالتے ہیں وہ اسی سوراخ کے رستے بننے کے گھر میں گرتا جاتا ہے۔ عقلمندی یہ نہیں کہ جسے دور وٹیاں نہیں ملتیں وہ ڈیڑھ ہی کھائے ، بلکہ عقلمندی یہ ہے کہ جب اسے دوملتی ہیں اس وقت بھی وہ ڈیڑھ کھائے اور نصف ضرورت کیلئے اٹھا رکھے اور جسے دو بھی نہیں ملتیں وہ بھی جو ملے اس میں سے کچھ نہ کچھ پس انداز کرے تا مصیبت کے وقت اس سے فائدہ اٹھا سکے کیونکہ جب تک ایسی حکومت موجود نہ ہو جو ہر شخص کے کھانے کی ذمہ دار ہو اس وقت تک یہ فکر نہ کر نا عاقبت نا اندیشی ہے۔ پس میری تجویز یہ ہے کہ آدھی روٹی گھر میں رکھوتا جب نہ ملے تو اسے کھا سکو اور اسی غرض سے میں نے تحریک جدید امانت فنڈ قائم کیا تھا۔ جو شخص اس تجویز پر عمل کرتا ہے وہ فائدہ میں رہتا ہے اور باقی ماندہ روٹی اس کے کام آتی ہے لیکن جو عمل نہیں کرتا کھاتا تو وہ بھی ڈیڑھ ہی ہے، مگر آدھی بنئے کو دیتا ہے ۔ پس کوئی شخص خواہ کتنا غریب ہوا سے چاہئے کہ کچھ نہ کچھ ضرور جمع کرتا رہے خواہ پیسہ یا دو پیسے ہی کیوں نہ ہوں کیونکہ بعض اوقات پیسہ دو پیسہ کا ہی خرچ آپڑتا ہے جس کے پورا کرنے کی کوئی اور صورت نہیں ہوتی اور اس وقت جمع شدہ پیسہ کام آتا ہے۔ بعض اوقات غریب لوگ فوت ہو جاتے ہیں تو کفن کیلئے بھی گھر میں کچھ نہیں ہوتا ۔ اور اگر ایک دو آ نہ ماہوار بھی انسان بچا تا رہے نے