خطبات محمود (جلد 19) — Page 823
خطبات محمود ۸۲۳ سال ۱۹۳۸ء قانون کے اندر رہتے ہوئے ہم نے مالی قربانی میں حصہ لے لیا ہے۔بے شک تم کہہ سکتے ہو کہ اگر ایک شخص مجبور اور معذور ہے اور اس نے اپنی معذوری کی وجہ سے تحریک میں پہلے جتنا حصہ نہیں لیا تو اس میں کیا حرج ہے مگر تم اس سے انکار نہیں کر سکتے کہ اگر اس کی اجازت میں قانون کے رنگ میں نہ دوں تو اس کا دل ضرور میلا ہوگا اور وہ کہے گا کہ افسوس کہ میں پہلے جتنا حصہ اب کی دفعہ نہ لے سکا۔پس میری غرض اس کمی سے یہ ہے کہ اگر کوئی واقع میں مجبور ہو اور اپنی مجبوری کی وجہ سے پہلے جتنا حصہ نہ لے سکتا ہو تو اس کا دل بھی میلا نہ ہو اور وہ یہ نہ کہے کہ افسوس میں اتنی قربانی نہیں کر سکا بلکہ وہ پھر بھی خوش ہو اور کہے کہ باوجود مجبوری کے میں نے اس قدر قربانی کر لی ہے جس قدر قربانی کا سلسلہ نے مجھ سے مطالبہ کیا تھا۔پس یہ صرف دل کے میلا نہ ہونے کیلئے میں نے شرط رکھی ہے ورنہ میرا ارادہ یہی ہے کہ ہر سال میں اپنا چندہ کچھ نہ کچھ بڑھاتا چلا جاؤں اور کئی دوسرے دوست بھی ہیں جنہوں نے ہر سال اپنا چندہ بڑھایا ہی ہے گھٹا یا نہیں۔پس مجھے چندہ میں دس فیصدی کمی کی اجازت دینے کا قانون بنانے کی ضرورت اس لئے پیش آئی ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ وہ لوگ جنہوں نے پہلے سال جوش میں بہت کچھ چندہ دے دیا تھائی کہ اپنی طاقت سے بھی زیادہ دے دیا تھا ان کے دل بھی میلے نہ ہوں یا وہ لوگ جن کی مالی حالت بعد میں واقع میں کمزور ہو گئی ہے ان کا دل بھی میلا نہ ہو ورنہ میں جانتا ہوں کہ جماعت کا ایک حصہ ایسا ہے جس نے ہر سال اپنے چندہ میں زیادتی کی ہے۔اس کے مقابلہ میں وہ لوگ بھی ہیں جنہوں نے اپنی طاقت سے کم حصہ لیا ہے۔میں اس موقع پر ان تمام لوگوں کو جنہوں نے گزشتہ سالوں میں اپنی طاقت سے کم حصہ لیا تھا ، یا ان لوگوں کو جو اپنی قربانی کے سابقہ معیار کو قائم رکھ سکتے ہیں اور اسی طرح ان لوگوں کو جو اپنی قربانی کے کی معیار کو بڑھا سکتے ہیں کہتا ہوں کہ تم میں سے وہ جنہوں نے گزشتہ سالوں میں اپنی طاقت سے کم حصہ لیا تھا وہ اپنی سستی کا ازالہ کریں اور خدا تعالیٰ نے ان کے لئے ثواب کا جو ایک اور موقع پیدا کر دیا ہے اس سے فائدہ اٹھائیں اور وہ جو اپنی سابقہ قربانیوں کے معیار کو قائم رکھ سکتے ہیں وہ اپنے معیار کو قائم رکھیں اور جو اس معیار کو بڑھا کر زیادہ قربانی کر سکتے ہیں وہ زیادہ قربانی کریں۔اللہ تعالیٰ کے ہاں ثواب کی کمی نہیں اگر تم زیادہ قربانی کرو گے تو اللہ تعالیٰ سے زیادہ اجر