خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 813 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 813

خطبات محمود ۸۱۳ سال ۱۹۳۸ء تو پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔وہ جان دینے کیلئے تو فوراً تیار ہو جائیں گے اور اگر جنگ ہو اور انہیں کہا جائے کہ فوج میں بھرتی ہو جاؤ اور ملک کی عزت کیلئے جان دے دو تو وہ بالکل نڈر ہو کر کی فوج میں شامل ہو جائیں گے اور دشمن سے لڑ کر اپنی جان دے دیں گے لیکن اگر انہیں کہا جائے کہ پندرہ منٹ یا آدھ گھنٹہ روزانہ فلاں کام کیلئے وقت دو تو چند دنوں کے بعد ہی وہ عذرات پیش کر دیں گے کہ آج ہماری بیوی بیمار ہے، آج بچے اچھے نہیں ، آج اپنی طبیعت ناساز ہے اور اس طرح وہ کام سے بچنا شروع کر دیں گے۔یہ وقتی اور ہنگامی مؤمن ہوتے ہیں اور یہ ہنگامی مؤمن ہر جماعت میں پائے جاتے ہیں۔حضرت نوح علیہ السلام آئے تو اُن کی جماعت میں بھی یہ ہنگامی مؤمن تھے ، حضرت ابراہیم علیہ السلام آئے تو اُن کی جماعت میں بھی یہ ہنگامی مؤمن تھے ، حضرت موسیٰ علیہ السلام آئے تو اُن کے ساتھ بھی کچھ ہنگامی مؤمن تھے ، حضرت عیسی علیہ السلام آئے تو اُن کی جماعت میں بھی کچھ ہنگامی مؤمن تھے پھر رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ کے ساتھ بھی بعض ہنگامی مؤمن تھے۔یہی ہنگامی مؤمن کبھی کبھی منافق بھی بن جاتے ہیں۔فرق صرف یہ ہے کہ ایک تو مستقل منافق ہوتا ہے اور ایک یہ ہنگامی مؤمن ہوتا ہے جو بعض دفعہ جوش میں آکر مؤمنانہ کام کر لیتا ہے اور بعض دفعہ ایسی حرکات کا ارتکاب کر لیتا ہے جن سے خدا تعالیٰ کو اپنے کی او پر ناراض کر لیتا ہے اور منافق بن جاتا ہے۔پس ہنگامی مؤمن کا انجام محفوظ نہیں ہوتا لیکن جو مستقل مؤمن ہوں ان کا انجام خدا تعالیٰ اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے اور انہیں ہر قسم کے بدانجام سے بچالیتا ہے۔ستوں کا ہر جماعت میں ہونا لازمی ہوتا ہے مگر ان کی وجہ سے کام کو نقصان نہ پہنچنے کی دینا ہمارا فرض ہے اور ان لوگوں کی اصلاح ہم پر لازمی ہے اور ہم یہ کہہ کر ہر گز بری نہیں ہو سکتے کہ ہم نے قربانی کر دی ہے ، اگر چند لوگوں نے قربانی نہیں کی تو ہم کیا کریں۔ہمارا فرض ہے کہ ہم انہیں بیدار کرتے رہیں، ان کی نیند اور غفلت کو دور کریں اور انہیں پچست اور ہوشیار بنائیں اگر ہم اپنی اس ڈیوٹی کو چھوڑ دیں تو ہم خدا تعالیٰ کے بھی مجرم ہونگے اور اپنی قوم اور اپنے نفس کے بھی مجرم ہو نگے اس لئے میں ہمیشہ ایسے لوگوں کو چست کرتا رہتا ہوں اور جو پہلے ہی