خطبات محمود (جلد 19) — Page 808
خطبات محمود ۸۰۸ سال ۱۹۳۸ء اور پھر جیسا کہ ساری دنیا کو معلوم ہے مذبح بنا اور اب تک خدا تعالیٰ کے فضل سے جاری ہے۔اب دیکھ لوکس طرح بات کو بدل کر کچھ کا کچھ بنا دیا گیا۔اس کے بعد میں نے پھر بھی کوشش جاری رکھی اور ایک اشتہار شائع کیا جس میں ہندوؤں اور سکھوں کو مخاطب کر کے لکھا کہ آپ کے نزدیک اگر کوئی ایسی راہ ہے جس سے مسلمان اپنی ضروری غذا کو بھی حاصل کرسکیں ، ان کی مذہبی اور اخلاقی حالت بھی درست رہے اور ان کے ہمسایوں کے جذبات بھی ناواجب طور پر زخمی نہ ہوں مجھے اس سے مطلع کیا جائے میں ہر وہ تجویز جس سے ہندوؤں اور سکھوں کے احساسات کا ممکن سے ممکن حد تک خیال رکھ کر مذبیح کو جاری کیا جا سکے قبول کرنے کے لئے تیار ہوں اور اس پر جہاں تک میرا اختیار اور میری طاقت ہے عمل کرنے کا میں ذمہ دار ہوں گا مگر ضروری ہے کہ ایسا قاعدہ صرف قادیان کے لئے نہ ہو بلکہ ہر جگہ کے لئے ہو کیونکہ اگر قادیان میں امن ہو جائے لیکن باقی ملک میں فسادات ہوتے رہیں تو اس سے کوئی فائدہ نہ ہوگا۔پس چاہئے کہ ہم ایک عام قاعدہ بنالیں اور اس کے مطابق قادیان میں بھی عمل ہو اور دوسری جگہوں میں بھی۔میں نے انہیں یہ بھی لکھا کہ اگر فلاں تاریخ تک اس کا جواب مجھے نہ ملا تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ آپ صلح کی خواہش نہیں رکھتے۔میرے اس خط پر دوسکھ لیڈوں نے اور ایک بہت بڑے ہندو لیڈر نے جواب دیا، میں ان صاحبان کا نام نہیں لیتا کہ تا ان کی پوزیشن خراب نہ ہو، ہندو لیڈر صاحب نے جو اس وقت ہندوستان کے چوٹی کے لیڈروں میں سے ہیں لکھا کہ مجھے معلوم ہے آپ ہمیشہ ہندوؤں سے نیک سلوک کرتے چلے آئے ہیں اور میں آپ سے اپیل کرتا تی ہوں کہ اس موقع پر بھی آپ ہی صلح کی کوشش کریں اور ہندوؤں نے اگر کوئی زیادتی کی ہے تو معاف کر دیں۔سکھ لیڈروں میں سے ایک سکھ لیڈر نے جو بہت بڑے زمیندار ہیں اور سر کا خطاب بھی رکھتے ہیں انہوں نے یہ جواب دیا کہ آج کل میں شملہ میں ہوں۔میں پنجاب میں آکر اس جھگڑے کا کوئی نہ کوئی فیصلہ کروں گا آپ مجھے کچھ مزید مہلت دیں۔دوسرے سکھ لیڈر نے جو سکھوں کے مذہبی لیڈر اور ایک بڑی تعلیم گاہ کے ایک بہت بڑے عہد یدار ہیں مجھے لکھا کہ ہم کو گائے سے کوئی تعلق نہیں ، یہ نادانوں کی باتیں ہیں کہ وہ ذبیحہ گائے کو نا پسند کرتے ہیں سکھوں کا ایسی باتوں سے کوئی واسطہ نہیں ہمارے نزدیک چاہے مذبح گھلے یا نہ کھلے یکساں بات ہے۔