خطبات محمود (جلد 19) — Page 802
خطبات محمود ۸۰۲ سال ۱۹۳۸ ء سے سر کا ا خطا ایک معزز آدمی کا خط ملا ہے۔ وہ لکھتا ہے میں خود آپ سے ملنا چاہتا تھا تا دیکھوں کہ جس شخص کی اس قدر تعریف اور اس قدر مذمت ہوتی ہے وہ ہیں کیسے؟ خیالات ہر شخص کے مختلف ہوتے ہیں اس کے لحاظ سے جو چاہے آپ کے متعلق کہہ لیا جائے مگر اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ آپ کے اخلاق اور آپ کی محبت نا قابلِ اعتراض اور قابلِ تقلید ہے۔ یہی اثر میں سمجھتا ہوں عام طور پر دوسرے لوگوں کے دلوں پر بھی تھا اور بجائے اس کے کہ وہ اس گند سے متاثر ہوتے سوائے چند لوگوں کے باقی تمام شرفاء صورت حالات کو حیرت سے دیکھتے تھے اور خواہش رکھتے تھے کہ ہم معلوم کریں یہ کیسی جماعت ہے اور اس کا امام کیسا شخص ہے ۔ پس احرار کے گند سے مسلمانوں کے شریف طبقہ میں صرف تجسس پیدا ہوا، ایک رو تحقیق کی پیدا ہوئی ، اس سے زیادہ انہوں نے کوئی اثر قبول نہیں کیا ۔ اسی طرح میرے یہاں پہنچنے پر دو چار دن کے بعد ایک مشہور مسلمان لیڈر نے جنہیں گورنمنٹ کی طرف سے خطاب بھی ملا ہوا ہے مجھے لکھا کہ میں آپ کے سفر کے حالات اخبار میں غور سے پڑھتا رہا ہوں اور میں اس دورہ کی کامیابی پر آپ کو مبارک باد دیتا ہوں حالانکہ ان کا اس سفر سے کوئی واسطہ نہ تھا نہ وہ ان شہروں میں سے کسی ایک میں رہتے تھے جہاں میں گیا۔ نہ وہ ان علاقوں کے باشندے ہیں ، ایک دور دراز کے علاقہ میں وہ رہتے ہیں اور مسلمانوں کے مشہور لیڈ رہیں مگر انہوں نے بھی اس دورہ کی کامیابی پر مبارک باد کا خط لکھنا ضروری سمجھا جس سے معلوم ہوتا ہے ۔ کہ شرفاء کے دلوں میں ایک گرید تھی اور بجائے اس گند سے متاثر ہونے کے شریف طبقہ ایک تجسس کی نگاہ سے تمام حالات کو دیکھ رہا تھا اور اندرونی طور پر وہ ہم سے ہمدردی رکھتا تھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ ان حالات میں مسلمانوں کے متعلق میری بدظنی گناہ کا موجب تھی اور میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے مجھے اس سفر کا موقع دے دیا تا وہ خیال جو ایک شکوہ کے رنگ میں مسلمان شرفاء کے متعلق میرے دل میں پیدا ہو چکا تھا کہ انہوں نے وہ امید پوری نہیں کی جوان پر مجھے تھی وہ دور ہو جائے ۔ چنانچہ مجھ پر اس سفر نے یہ ثابت کر دیا کہ میرا پہلا خیال غلط تھا اور در حقیقت ان کی خاموشی صرف ہیبت کی وجہ سے تھی ورنہ شریف ، دل میں شریف ہی تھے اور وہ اس گند کو پسند نہیں کرتے تھے جو احرار کی طرف سے اچھالا گیا۔ مگر میں نے بتایا ہے کہ دور اول کے بعد دورِ ثانی کی ضرورت ہے۔ دور اول زمین کی