خطبات محمود (جلد 19) — Page 801
خطبات محمود ۸۰۱ سال ۱۹۳۸ء رکھا کرتا تھا اور ان خیالات سے جو احرار نے پیدا کرنے چاہے تھے وہ متاثر نہیں بلکہ ان کی کی گالیوں کی وجہ سے وہ ہم سے بہت کچھ ہمدردی رکھتے ہیں۔اگر مجھے یہ سفر پیش نہ آتا تو شاید یہ اثر دیر تک میرے دل پر رہتا اور میں سمجھتا ہوں یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے مجھے اس کی سفر کا موقع دیا اور وہ اثر جو میرے دل پر تھا کہ اتنے گند میں مسلمانوں کا شریف طبقہ کس طرح شامل ہو گیا وہ اس سفر کی وجہ سے دور ہو گیا۔حیدرآباد میں میں نے دیکھا کہ جس قدر بھی بڑے آدمی تھے۔إِلَّا مَا شَاءَ اللہ تھوڑے سے باہر بھی رہے ہوں گے اور وہ ان پارٹیوں میں شامل ہوتے رہے جو میرے اعزاز میں وہاں دی گئی تھیں۔ان لوگوں میں وزراء بھی تھے ، امراء بھی تھے اور نواب بھی تھے۔چنانچہ نواب اکبر یار جنگ صاحب بہادر نے جو پارٹی دی اس میں بہت سے نواب شامل ہوئے اور سارے سو دو سو کے قریب معززین ہوں گے اور جوان کی پارٹی میں شامل ہوئے۔اسی طرح دوسری جگہوں میں بھی میں نے دیکھا کہ شرفاء، آفیسرز ، ججز اور بڑے بڑے امراء ان دعوتوں میں شریک ہوتے رہے ہیں اور میں دیکھتا رہا کہ ان کے دلوں کی میں یہ احساس ہے کہ احرار کی طرف سے ہم پر سخت مظالم توڑے گئے ہیں بلکہ بہتوں نے بیان بھی کیا کہ ہم تسلیم کرتے ہیں جماعت احمدیہ مسلمانوں کی خیر خواہی کے لئے بہت کچھ کر رہی ہے۔اسی طرح دہلی میں جو ایک دو تقریبات ہوئیں ان میں میں نے دیکھا کہ شہر کے ہر طبقہ کے لوگ اور بڑے بڑے روساء شامل ہوتے رہے۔مسلمانوں میں سے زیادہ اور ہندوؤں اور سکھوں میں سے قلیل اور قدرتی بات ہے کہ جس شخص کے اعزاز میں یہ تقریب پیدا کی جائے گی اس میں وہی لوگ زیادہ بلائے جائیں گے جو اس کے ہم مذہب ہوں گے۔پس ان دعوتوں میں ہر طبقہ کے لوگ شامل ہوئے اور ان کی باتوں میں سے میں نے یہ معلوم کیا کہ در حقیقت احرار کا یہ دعویٰ کہ ان کا مسلمانوں پر بہت بڑا اثر ہے اور یہ کہ وہ گند جسے شرافت برداشت نہیں کر سکتی مسلمانوں کے دلوں میں گھر کر چکا ہے، یہ بالکل غلط ہے اور اس طرح میرے ان خیالات کا ازالہ ہوا جو شرفا کے متعلق میرے دل میں پیدا ہو چکے تھے اور میں نے سمجھا کہ اگر ان ایام میں مسلمان خاموش رہے تھے تو محض مخالفت کی ہیبت کی وجہ سے کہ احرار کا ان کے دلوں پر کوئی اثر ہے اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے مجھے بدظنی کے گناہ سے بچا لیا۔مجھے پرسوں ترسوں ہی حیدر آباد سے