خطبات محمود (جلد 19) — Page 800
خطبات محمود سال ۱۹۳۸ء دبانے کیلئے تیار ہو جاتے تھے مگر اب وہ سوچ لیتے ہیں کہ اس دبانے کا نتیجہ کیا ہو گا پھر اللہ تعالیٰ کی نے اپنے فضل سے جماعت کو جس رنگ میں بڑھایا ہے وہ کوئی پوشیدہ بات نہیں۔چاروں طرف ترقی کے آثار نظر آرہے ہیں کئی نئے ممالک ہیں جن میں احمدیت قائم ہوئی ، ہزاروں لوگ جو اس دوران احمدیت میں داخل ہوئے بلکہ قریب کے علاقہ میں بھی خدا تعالیٰ کے فضل احمدیت نے ترقی کرنی شروع کر دی ہے اور بعض جگہ بالکل نئی جماعتیں قائم ہوگئی ہیں اور بعض جگہ پہلے چھوٹی جماعتیں تھیں مگر اب بہت بڑی جماعتیں ہو گئی ہیں۔چنانچہ ابھی ایک صاحب کی نے جو آ کر کہا ہے کہ انتظام ہو گیا ہے۔وہ اسی امر کے متعلق تھا کہ ایک جگہ کی نئی جماعت نے خواہش کی تھی کہ انہیں جمعہ پڑھانے کے لئے کوئی آدمی بھجوایا جائے۔ہمارے افسر انتظام کرنا بھول گئے اور جمعہ کو آتے ہوئے مجھے شاہ صاحب سے اس کا علم ہوا اور میں نے آدمی بھیجوایا کی کہ ابھی خطیب کا انتظام کر کے مجھے اطلاع دی جائے تا ان لوگوں کی دل شکنی نہ ہو۔اس جگہ بھی میں سال سے نہایت مختصر جماعت تھی مگر اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑی جماعت ہوگئی ہے۔آج میں یہ بھی بتانا چاہتا ہوں کہ میرے دل پر ان گالیوں کی وجہ سے ایک ناخوشگوار اثر تھا جو احرار ایجی ٹیشن کی وجہ سے ہمیں ملتی رہی ہیں اور اب بھی مل رہی ہیں کیونکہ گالیاں فتح اور کی شکست سے تعلق نہیں رکھتیں بلکہ گرا ہوا آدمی زیادہ گالیاں دیا کرتا ہے۔بہر حال میری طبیعت کی پر یہ اثر تھا کہ مسلمانوں نے اس موقع پر ہمارے ساتھ اچھا معاملہ نہیں کیا اور مجھے ان کی طرف سے رنج تھا۔شاید میرا گزشتہ سفر اللہ تعالیٰ کی حکمت کے ماتحت اسی غرض کیلئے تھا کہ تا میری طبیعت پر جو اثر ہے وہ دور ہو جائے۔میں نے اس سفر میں یہ اندازہ لگایا ہے کہ میرا وہ اثر کہ مسلمان شرفاء بھی اس گند میں مبتلا ہیں اس حد تک صحیح نہیں جس حد تک میرے دل پر یہ اثر تھا۔مجھے اس سفر میں ملک کا ایک لمبا دورہ کرنے کا موقع ملا ہے۔پہلے میں سندھ گیا ، وہاں سے بمبئی گیا، بمبئی سے حیدر آباد چلا گیا اور پھر حیدر آباد سے واپسی پر دہلی سے ہوتے ہوئے قادیان آ گیا۔اس طرح گویا نصف ملک کا دورہ ہو جاتا ہے۔اس سفر کے دوران شرفاء کے طبقہ کے اندر جو بات میں نے دیکھی ہے اس سے جو میرے دل میں مسلمانوں کے متعلق رنج تھا وہ بہت کچھ دور ہو گیا ہے اور مجھے معلوم ہوا ہے کہ شریف طبقہ اب بھی وہی شرافت رکھتا ہے جو شرافت وہ پہلے کی