خطبات محمود (جلد 19) — Page 790
خطبات محمود ۷۹۰ سال ۱۹۳۸ ء نہیں ، گو اندر ہی اندر آگ سلگائی جا رہی ہے اور ایک لاوا ہے جو پک رہا ہے مگر وہ تمہاری نظروں سے پوشیدہ ہے اسلئے آج کی قربانی دشمن کی مار کی طرف منسوب نہیں کی جاسکتی ۔ اس وقت قربانی خالص خدا تعالیٰ کی محبت کے لئے ہوگی ، اس وقت ہمارے مد نظر صرف خدا تعالیٰ کے دین کو پھیلانے کیلئے مستقل کام کی بنیاد رکھنا ہے اور اس کے لئے میں چاہتا ہوں کہ ایک مستقل ریز رو فنڈ قائم کر دوں جس سے یہ کام سہولت کے ساتھ چلتا رہے اور اس کے ساتھ نوجوانوں کی ایک ایسی جماعت تیار کروں جو اسلام کو صحیح معنوں میں قائم کرنے والی ہو۔ یہ دونوں کام پہلے سے بہت زیادہ خرچ چاہتے ہیں لیکن باوجود اس کے میں نے کہہ دیا ہے کہ جو دوست زیادہ بوجھ نہ اٹھا سکیں ہر سال دس فیصدی چندہ تحریک میں سے کم کرتے جائیں گو میں نے اپنا چندہ گزشتہ سال بھی تیسرے سال کی نسبت دس فیصدی بڑھا دیا تھا۔ بہر حال یہ دوسرا دور تحریک جدید کا آپ کے سامنے ہے۔ مجھے اس سے غرض نہیں کہ آپ اس پر کس طرح عمل کرتے ہیں اگر آپ اس پر عمل نہ کریں گے تو اللہ تعالیٰ کامیابی کا کوئی اور رستہ کھول دے گا مگر میں آپ لوگوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ دو مواقع قربانی کے آئے ہیں ایک وہ جب دشمن مار رہا تھا اور ایک خالص خدا تعالیٰ کی محبت میں قربانی کرنے کا ۔ اگر اس دوسرے وقت میں ہم نے سستی دکھائی تو آئندہ زمانہ کے لوگ ہمارے متعلق کیا فیصلہ کریں گے وہ ظاہر ہی ہے ۔ آپ میں سے ہر ایک نے اپنی قبر میں جانا ہے اور میں نے اپنی میں ۔ میرے اچھے عملوں سے آپ لوگوں کو کوئی فائدہ نہ ہوگا اور او آپ کے اچھے عملوں سے مجھے نہیں ہوگا ۔ ہر ایک اپنے اپنے اعمال کا خدا تعالیٰ کے سامنے خود جواب دہ ہے۔ اگر وہ مجھے پوچھے گا کہ تم نے کیا قربانی کی تو اس کے جواب کا میں ذمہ دار ہوں تم اپنے لئے آپ سوچ لو کہ تم کیا جواب دو گے یا دے سکو گے ۔ میں جانتا ہوں کہ کل کو اگر کوئی اور قوم ہمارے مقابلہ کیلئے کھڑی ہو جائے تو سست دوست بھی قربانیاں کرنے لگیں گے مگر قیامت کے روز خدا تعالیٰ ان سے کہے گا بے شک تم نے قربانیاں کیں مگر میرے لئے نہیں بلکہ اپنی جان بچانے کے لئے ۔ اس وقت میں نے آپ لوگوں کے سامنے چند اصول رکھ دیتے ہیں اور ان پر تبصرہ کر دیا ہے اس وقت میں کوئی تحریک نہیں کرتا ۔ صرف ایک تحریک کرتا ہوں کہ رمضان کا آخری عشرہ جو آنے والا ہے اس کو تحریک جدید کے متعلق سابق قربانیوں