خطبات محمود (جلد 19) — Page 785
خطبات محمود ۷۸۵ سال ۱۹۳۸ ء بل معائنہ کے لئے ایک سفر کرنا پڑا راستہ میں ایک جگہ احباب نے دعوت کی ۔ میں نے دیکھا کہ اس قد ر کھانے سامنے پڑے ہوئے تھے کہ اگر میں اپنا ہاتھ پھیلا تا تب بھی سب پلیٹوں تک نہیں پہنچ سکتا تھا حتی کہ اگر لیٹ جاتا تب بھی بعض تھالیاں مجھ سے دور رہتیں ۔ کوئی چالیس قسم کے کھانے تھے۔ میں نے دبی زبان سے اس کا شکوہ بھی کیا مگر ایک دوست نے جو ساتھ تھے مجھے روکا اور کہا کہ ایسا نہ کریں، صاحب خانہ کی دل شکنی ہوگی ۔ ابھی تو بہت سادگی سے کام لیا گیا ہے ورنہ یہاں معززین کی دعوت میں اس سے بہت زیادہ کھانے ہوتے ہیں۔ تو اس قسم کے لوگ بھی جماعت میں موجود تھے مگر تحریک جدید کے ماتحت سب نے ایک ہی کھانا کھانا شروع کر دیا اور نہ صرف احمد یوں نے بلکہ بیسیوں بلکہ سینکڑوں غیر احمدیوں نے بھی اس طریق کو اختیار کر لیا ۔ میری ایک ہمشیرہ شملہ گئی تھیں انہوں نے بتایا کہ وہاں بہت سے رؤساء کی بیویوں نے مانگ مانگ کر تحریک جدید کی کاپیاں لیں اور کہا کہ کھانے کے متعلق ان کی ہدایات بہت اعلیٰ ہیں ہم انہیں اپنے گھروں میں رائج کریں گی ۔ ایک نوجوان نے بتایا کہ وہ بعض غیر احمدیوں کے ساتھ ایک میس میں شریک تھے تحریک جدید کے بعد جب انہوں نے دوسرا کھانا کھانے سے احتراز کیا اور دوسرے ساتھیوں کے پوچھنے پر اس پر اس کی وجہ ان کو بتائی تو انہوں نے بھی وعدہ کیا کہ یہ بہت اچھی تحریک ہے ہم بھی آئندہ اس پر عمل کریں گے۔ پھر میں نے سینما دیکھنے کی ممانعت کی تھی اس بات کو ہمارے زمیندار دوست نہیں سمجھ سکتے کہ شہریوں کے لئے اس ہدایت پر عمل کرنا کتنا مشکل تھا شہر والے ہی اسے سمجھ سکتے ہیں ۔ ان میں سے بعض کے لئے سینما کو چھوڑ نا ایسا ہی مشکل تھا جیسے موت قبول کرنا جن کو سینما جانے کی عادت ہو جاتی ہے وہ اسے زندگی کا جزو سمجھتے ہیں مگر ادھر میں نے مطالبہ کیا کہ اسے چھوڑ دو اور اُدھر ننانوے فیصدی لوگوں نے اسے چھوڑ دیا اور پھر نہایت دیانتداری سے اس عہد کو نبھایا اور عورت مرد سب نے اس پر ایسا عمل کیا کہ جو دنیا کے لئے رشک کا موجب ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اس سے لاکھوں روپیہ بیچ گیا ہوگا ۔ سینما دیکھنے والے عموماً روزانہ دیکھتے ہیں اگر مہینہ میں دس دن بھی سینما کے شمار کئے جائیں اور صرف چار آ نہ والے ٹکٹ کا اندازہ کیا جائے تب بھی سال میں تیس روپے فی کس کا خرچ ہے اور اگر جماعت کے سینما جانے والوں کی تعداد ایک ہزار سمجھی جائے تو تمہیں ہزار سالانہ