خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 782 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 782

خطبات محمود ۷۸۲ سال ۱۹۳۸ ء جب اپنے محدود علم کے مطابق جماعت سے ستائیس ہزار روپیہ کا مطالبہ کیا اور کہا کہ تین سال کیلئے یہ رقم درکار ہے تو جماعت نے ایک لاکھ سات ہزار کے وعدے کئے حالانکہ وعدے کرنے والوں میں سے بہتوں نے ابھی صرف پہلے ہی سال کا حصہ دیا تھا۔ کتنی عظیم الشان بیداری تھی مگر یہ دھماکے کی بیداری تھی ۔ دشمن نے ایک تھپڑ رسید کیا تھا جس سے جماعت میں ایک سنسنی پیدا ہوئی ، لرزہ پیدا ہوا اور وہ بیدار ہو گئی ۔ میں نے اس وقت یہ کہا تھا کہ جو بیداری مار سے پیدا ہو وہ کوئی بیداری نہیں ، وہ خدا تعالیٰ کیلئے نہیں بلکہ دشمن کیلئے ہوتی ہے اور اس کا ثواب اگر دشمن کو مل سکتا تو اسے ملتا ۔ غرض ۱۹۳۴ء کے آخر میں جماعت میں جو بیداری ہوئی اسکے نتیجہ میں جماعت نے ایسی غیر معمولی قربانی کی روح پیش کی جس کی نظیر اعلیٰ درجہ کی زندہ قوموں میں بھی مشکل سے مل سکتی ہے، کمزور قوموں سے مقابلہ کا کوئی سوال ہی نہیں ۔ یہ قربانی زندہ قوموں کے مقابل پر بھی فخر کے ساتھ پیش کی جاسکتی ہے مگر وہ تھپڑ اور مار کے نتیجہ میں تھی ۔ دشمن کے تھڑ سے دوست یک دم گھبرا گئے اور انہوں نے محسوس کیا کہ ہم پیسے جانے لگے ہیں ۔ تب خیال کیا کہ موت سے پہلے کچھ خرچ کر لو اس کے بعد دوسرا اور تیسرا سال آیا اور میں نے ہر موقع پر سمجھایا کہ حقیقی قربانی دائمی قربانی کا نام ہے مگر تھپڑ کی چوٹ اور صدمہ جوں جوں کم ہوتا گیا ، جوں جوں دشمن کو ذلت نصیب ہوتی گئی ۔ جماعت کے لوگ بھی لیٹنے لگے اور بعض تو غفلت کی نیند سو گئے ۔حتی کہ جب میں نے دوسرے دور کی تحریک کی تو بعض لوگوں نے خیال کر لیا کہ ہم اپنا فرض ادا کر چکے ہیں اور اب ہمیں کسی اور آواز کے سننے کی ضرورت نہیں ۔ میں مانتا ہوں کہ تحریک جدید کے پہلے دور میں احباب نے غیر معمولی کام کیا اور ہم اسے فخر کے ساتھ پیش کر سکتے ہیں ۔ مؤرخ آئیں گے جو اس امر کا تذکرہ کریں گے کہ جماعت نے ایسی حیرت انگیز قربانی کی کہ جس کی مثال نہیں ملتی اور اس کے نتائج بھی ظاہر ہیں ۔ حکومت کے اس عنصر کو جو ہمیں مٹانے کے درپے تھا متواتر ذلت ہوئی ، اس نے جھوٹ اور فریب سے کام لیا ، جھوٹی مسلیں تک بنا ئیں مگر اللہ تعالیٰ نے اسے نا کام کیا اور ہم اندر بھی اور باہر بھی ہر جگہ اس قابل ہوئے کہ اعلیٰ حکام کو بتا سکیں کہ وہ ان کو بھی اور بھی دھوکا دیتے رہے ہیں اور دنیا کو بھی حتی کہ گورنمنٹ کو بھی محسوس کرنا پڑا اور اس نے پہلے نوٹس کے