خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 735 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 735

خطبات محمود ۷۳۵ سال ۱۹۳۸ء پیچھے رہیں گے تو جماعت ان کے مشوروں سے فائدہ نہیں اٹھا سکے گی۔پس ضروری ہے کہ آگے بڑے آدمی ہوں ، پھر بچے ہوں اور پھر عورتیں۔عورتوں کو سب سے پیچھے اس لئے نہیں رکھا جاتا کہ وہ ادنی ہیں بلکہ اس لئے رکھا جاتا ہے کہ ان کے آگے پردہ کی دیوار کے طور پر کھڑے ہوسکیں۔اس مختصر سی نصیحت کے بعد اب میں اصل مضمون کی طرف آتا ہوں۔یہ امر یا د رکھنا چاہئے کہ قومی تربیت کے ہمیشہ دو دور ہوتے ہیں جس طرح جسمانی تربیت کے بھی دو دور ہوتے ہیں اور یہ دونوں دور متقابل چلتے ہیں گویا افراد کی ترقی اور قوم کی ترقی ایک ہی اصول پر مبنی کی ہے۔اس نقطہ نگاہ کے ماتحت جب ہم افراد کی حالت کو دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کی تربیت کا ایک دور وہ ہوتا ہے۔جب بچہ ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے اور دوسرا دور اس وقت ہوتا ہے جب بچہ ماں کے پیٹ سے باہر آتا ہے۔پہلے دور میں بچہ کی غذا و غیرہ کا انتظام خود خدا تعالیٰ کی کرتا ہے لیکن دوسرے دور میں ان امور کو صرف خدا تعالیٰ پر نہیں چھوڑا جاتا بلکہ ماں باپ بچہ کی جسمانی تربیت اور کھانے پینے کی طرف خود توجہ کرتے ہیں اور اس کی خوراک اور لباس وغیرہ کی میں ان کا بہت دخل ہوتا ہے۔اس دوسرے دور میں بچہ کی تربیت کا کام اس کی پیدائش سے ہی تی شروع ہو جاتا ہے اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے کہ بچہ کے پیدا ہوتے ہی اس کے کان میں اذان دی جائے یہ اب دیکھو اذان عربی زبان میں ہے اور بچہ اسے نہیں سمجھ سکتا مگر با وجود اس کے شریعت نے حکم دیا ہے کہ اس کے کان میں اذان دی جائے اور یہ خالی از حکمت نہیں بلکہ جبکہ علم النفس کے رو سے اب ثابت ہو چکا ہے اس وقت کی باتوں کا بچہ کے دل و دماغ پر خاص اثر ہوتا ہے اور وہ نقوش اس کے دل و دماغ پر پیدا ہو جاتے ہیں جو مٹتے نہیں۔فرانس میں ایک لڑکی تھی جو جرمن زبان میں سرمن پڑھتی تھی حالانکہ اسے کسی نے جرمن زبان سکھائی نہیں تھی۔لوگ سمجھتے تھے کہ اس لڑکی پر جن بھوت کا اثر ہے مگر جب تحقیقات کی گئی تو پتہ چلا کہ جب وہ ابھی ایک سال کی تھی اُس وقت اس کی والدہ ایک جرمن پادری کے پاس ملازم تھی اور اس پادری کی عادت تھی کہ سرمن بلند آواز میں پڑھتا تھا چنانچہ وہی سرمن اس لڑکی کے دماغ میں بھی نقش ہو گئے اور وہ دورے کی حالت میں انہیں دُہراتی رہتی۔غرض بچہ کے کان میں اذان دینے کی ایک حکمت تو یہ ہے کہ اس طرح بچہ کو بڑے ہونے کے بعد عربی زبان کی