خطبات محمود (جلد 19) — Page 722
خطبات محمود ۷۲۲ سال ۱۹۳۸ ء اس صورت میں سیاست کی طرف توجہ کرنا اسلام کے لئے مفید ہوتا ہے اور ایسے ہی مواقع میں سے ایک کے متعلق میں آج کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں ۔ آج صبح کی خبروں سے جو وائرلیس کے ذریعہ موصول ہوئی ہیں پتہ لگتا ہے کہ یورپ میں جنگ کے جو آثار نظر آ رہے تھے اور جن کو دور رکھنے کے لئے برطانیہ کے وزیر اعظم مسٹر چیمبرلین کوشش کر رہے تھے ان کی کوشش کامیاب ہوگئی ہے۔ بظاہر یہ ایک سیاسی چیز ہے مگر جیسا کہ میں آگے چل کر بتاؤں گا اس میں اسلام کی عظیم الشان فتح ہے۔ فیصلہ ان اصول پر ہوا ہے کہ یکم اکتو برکوز یکوسلواکیہ کا جرمن علاقہ جرمنی کے سپرد کر دیا جائے گا تا اس کا چیلنج پورا چیلنج پورا ہو جائے اور بقیہ حصہ دس اکتوبر تک آہستہ آہستہ دیا جاتا رہے گا مگر یہ علاقہ اس سے کچھ کم ہے جو جرمن مانگتے تھے۔ باقی جو جھگڑے والا علاقہ ہے یا جو دوسرے ضمنی سوالات یعنی جنگی اور اقتصادی امور حل طلب ہیں مثلاً یہ کہ جو زیک اس علاقہ سے دوسرے علاقہ میں جائیں گے یا جو جرمن کسی دوسرے علاقہ سے یہاں آئیں گے ان کی جائدادوں وغیرہ کا کیا بنے گا، ان کا ایک کمیشن کے ذریعہ جس میں برطانیہ، فرانس، اٹلی اور زیکوسلواکیہ کا ایک ایک نمائندہ ہو گا فیصلہ کیا جائے گا اور کوشش کی جائے گی کہ اکتوبر کے آخر تک یہ سب فیصلہ کر دیا جائے اور ۲۵ نومبر تک گل جھگڑے کا فیصلہ ہو جائے گا ۔ یہ یورپ کی جنگ کا سوال تھا جو اس وقت ساری دنیا کا مالک سمجھا جاتا ہے اور خالص جنگ کو مد نظر رکھتے ہوئے ایشیا کو اس سے کوئی دلچسپی نہیں ہو سکتی ۔ ایشیا قومی لحاظ سے سیاسی رنگ میں اپنی طاقت کھو چکا ہے۔ ایشیا کا سب سے بڑا ملک چین ہے جو اس وقت فٹ بال کی گراؤنڈ بنا ہوا ہے، دوسرا بڑا ملک یعنی ہندوستان اس وقت یورپ کی ایک بڑی قوم کے ماتحت ہے گویا ایشیائی آبادی کا بیشتر حصہ یا تو طاقت سے محروم ہے یا دوسروں کے ماتحت ہے۔ ایشیاء میں اگر کوئی طاقت ہے تو وہ جاپان کی ہے،اس کے علاوہ ایران ،افغانستان اور ٹرکی وغیرہ چھوٹی چھوٹی حکومتیں ہیں جو اگر اپنی جان بھی بچا سکیں تو غنیمت ہے۔ سائبیریا کا رقبہ بہت بڑا ہے مگر وہ روس کے ماتحت ہے ۔ گو یا ایشیا کی زمین میں سے ۴٫۵ حصہ دوسروں کے ماتحت ہے یا اگر آزاد ہے تو اس کی آزادی برائے نام ہے۔ جیسے چین ہے اسے اگر چہ آزادی حاصل ہے مگر ایسی ہی جیسی بلی چوہے کو آزادی دیتی ہے وہ اسے پکڑتی ہے