خطبات محمود (جلد 19) — Page 704
خطبات محمود ۷۰۴ سال ۱۹۳۸ء نہ تھا۔اس کی کہانی ہمیں یہی بتاتی ہے کہ وہ نا کام تھا مگر باوجود اس ناکامی کے اس کا نام آج تک قائم ہے۔یہی حال فرہاد کا ہے اس کا نام غیر تعلیم یافتہ لوگوں میں زیادہ مشہور نہیں مگر تعلیم یافتہ طبقہ میں وہ ایسا ہی مشہور ہے جیسا سکندر، رستم یا مجنوں۔حالانکہ وہ بھی نا کام تھا۔ان لوگوں کے نام کا میاب لوگوں کی طرح کیوں مشہور ہیں اسی لئے کہ انہوں نے اپنے دل میں سچی تڑپ پیدا کی گوا سے پورا کرنے کے قابل نہ ہو سکے مگر انہوں نے اپنی تڑپ کو نہ چھوڑا۔تو استقلال کے ساتھ مقصود کی طلب میں لگے رہنا اپنی ذات میں کامیابی ہے اور ایسی ہی کامیابی ہے جیسے فتوحات حاصل کرنا۔اگر یہ بڑی چیز نہ ہوتی تو کامیاب لوگوں کے ساتھ ان ناکاموں کے نام مشہور نہ ہوتے مگر بنی نوع انسان کا یہ فیصلہ ہے اور متفقہ فیصلہ کہ جس مقام پر کامیاب لوگوں کو بٹھایا جاتا ہے اسی پر سچی تڑپ رکھنے والے نا کام بھی بٹھائے جاتے ہیں اور صحیح فیصلہ وہی ہوتا ہے جو لوگ کرتے ہیں ، اپنے متعلق اپنا فیصلہ صحیح نہیں سمجھا جاتا۔ہر ڈاکٹر یہی سمجھتا ہے کہ وہ بڑا قابل ہے، ہر وکیل یہی خیال کرتا ہے کہ وہ بہت لائق ہے لیکن دراصل بڑا ڈاکٹر اور بڑا وکیل کی وہی ہوتا ہے جس کے متعلق لوگ فیصلہ کریں کہ وہ بڑا ہے۔عوام قانون نہیں جانتے مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر ایسی حسن رکھی ہے کہ وہ اچھی چیز کے متعلق فیصلہ کر سکتے ہیں نا کام وکیل شور مچاتے ہی رہتے ہیں کہ فلاں وکیل کچھ نہیں جانتا یونہی مشہور ہو گیا ہے لیکن یہ نہیں سوچتے کہ کیوں مشہور ہو گیا ہے۔پبلک اپنے فیصلوں میں غلطی نہیں کرتی۔ہمارے سامنے آ کر ایک شخص کام شروع کرتا ہے اور دیکھتے دیکھتے وہ آگے بڑھ جاتا ہے تو ہمیں ماننا پڑے گا کہ وہ لائق ہے۔کامیاب ڈاکٹروں کے متعلق کوئی طبی مجلس فیصلہ نہیں کیا کرتی کہ فلاں قابل ہے اور فلاں نا قابل بلکہ جاہل عوام ہی کیا کرتے ہیں۔نا کام شور مچاتے رہتے ہیں کہ اس کے نسخہ میں تو صرف فلاں دوائی ہوتی ہے وہ جس پر ہاتھ ڈالتا ہے وہی مر جاتا ہے مگر پبلک ہے کہ اس کی طرف چلی جارہی ہے وہ اپنی فیس پانچ سے دس، دس سے سولہ سولہ سے بہتیں اور بتیس سے چونسٹھ کر دیتا ہے، ادھر ملک غریب اور کنگال ہے مگر لوگ قرضہ لیں یا کچھ کریں بیماری کے وقت کسی نہ کسی طرح چونسٹھ روپے منہیا کر کے اس کے پاس پہنچ جائیں گے۔