خطبات محمود (جلد 19) — Page 702
خطبات محمود ۷۰۲ ٣٢ سال ۱۹۳۸ سچائی اور خلوص سے شہرت دوام اور کامیابی حاصل ہوتی ہے (فرموده ۲۳ /ستمبر ۱۹۳۸ء) تشہد ، تعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: - ایک مسلمان دن میں چالیس پچاس مرتبہ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ) صِرَاطَ الّذينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ لے کہتا ہے۔جس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ ابھی مجھے سیدھے رستہ کی ضرورت ہے اے خدا! تو مجھے سیدھا رستہ دکھا یعنی وہ اقرار کرتا ہے اور اظہار کرتا ہے اور اصرار سے اظہار کرتا اور بار بار اقرار کرتا ہے کہ اسے سیدھے رستہ سے محبت ہے ، وہ سیدھا رستہ حاصل کرنا چاہتا ہے اور اگر وہ اسے مل جائے تو اسے قبول کرے گا۔یہ کتنی پاکیزہ اور اعلیٰ درجہ کی خواہش ہے اگر یہ سچی ہو۔دنیا کی ساری خوبیاں اور بھلائیاں اور اچھائیاں اس کے اندر آ جاتی ہیں اور اس میں کیا محبہ ہے کہ جو شخص سچے دل کے ساتھ یہ خواہش رکھتا ہے وہ دنیا میں چلتا پھرتا جنتی اور ولی اللہ ہے مگر سوال یہ ہے کہ وہ کچی خواہش رکھتا ہے یا نہیں۔کو نسا شخص دنیا میں ہے اور کس مذہب کا ہے کہ جو اس قسم کی سچی خواہش کو سن کر متاثر نہ ہو گا۔مسلمانوں کو جانے دو یہ فقرہ کسی ہندو، سکھ ، عیسائی ، یہودی کے سامنے رکھ دو کہ ایک شخص دن رات اس خواہش میں تڑپ رہا ہے اور دعائیں کرتا ہے کہ اے خدا ! مجھے سیدھا رستہ دکھا اور وہ اس سیدھے راستہ پر چلنا چاہتا ہے تو پھر بغیر اس بات کا انتظار کئے کہ اسے یہ رستہ مل گیا ہے یا نہیں ہر ایک یہی کہے گا کہ وہ شخص بڑا نیک اور