خطبات محمود (جلد 19) — Page 686
خطبات محمود ٦٨٦ سال ۱۹۳۸ ء وَافْعَلُوا الخير جب تم یہ باتیں کر لو یعنی جب اللہ تعالیٰ پر توکل کرو ۔ جب اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا جوا اپنی گردنوں پر اُٹھا لو ، جب تم اس کی شب و روز عبادت کرو تو پھر چوتھا فرض تمہارا یہ ہے کہ وافْعَلُوا الخير تم بنی نوع انسان کی بھلائی کی کوشش کرو تم یتیموں کی خبر گیری کر وہ تم بیواؤں کی نگہداشت کرو، تم مساکین سے شفقت اور رافت کے ساتھ پیش آو تم ہمسائیوں سے نیک سلوک کرو ، تم دین اسلام کو ان لوگوں میں پھیلاؤ جو اسلامی تعلیم سے نا آشنا ہیں ۔ غرض جس قدرا چھے کام ہیں وہ سب کرو لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ وافْعَلُوا الخير کو تو لوگ کسی حد تک مانتے ہیں مگر باقی جس قدر احکام ہیں ان کو دنیا اپنی تباہی کی علامت سمجھتی ہے ۔ وہ کہتے ہیں جو تو کل کرے گا اس کا بیڑا غرق نہیں ہوگا تو اور کس کا ہوگا ؟ پھر وہ کہتے ہیں جو احکام مذہبی پر چلے گا اور دین کی ترقی کے لئے چندہ دے گا وہ غریب نہیں ہوگا تو اور کیا ہوگا ؟ اسی طرح وہ کہتے ہیں جو پانچ وقت نماز پڑھے گا وہ تین چار گھنٹہ ضرور ضائع کر دے گا اور جس نے اپنے اوقات کا اتنا بڑا حصہ اس طرح رائیگاں کر دیا وہ دُنیا میں کامیاب کس طرح ہو سکتا ہے؟ غرض دنیا ان تمام باتوں کو تباہی کا موجب سمجھتی ہے مگر جن امور کو دُنیا تباہی کا موجب سمجھتی ہے قرآن کریم کہتا ہے کہ وہی تم کرو کیونکہ دنیوی ترقی اور دینی ترقی میں زمین وآسمان کا فرق ہے۔ اس کے ذرائع اور ہوتے ہیں اور اُس کے ذرائع اور ۔ ہماری جماعت بھی ایک دینی جماعت ہے اور ہماری ترقیات بھی دین سے ہی وابستہ ہیں دُنیوی ذرائع سے نہیں ۔ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بارہا سُنا ہے آپ فرمایا کرتے تھے ہماری جماعت میں تین قسم کے لوگ ہیں ۔ ایک تو وہ ہیں جو میرے دعوی کو سمجھ کر اور سوچ کر احمدی ہوئے ہیں ۔ وہ جانتے ہیں کہ میری بعثت کی کیا غرض ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ جس رنگ میں پہلے انبیاء کی جماعتوں نے قربانیاں کی ہیں اسی رنگ میں ہمیں بھی قربانیاں کرنی چاہئیں مگر ایک اور جماعت ایسی ہے جو صرف حضرت مولوی نورالدین صاحب کی وجہ سے ہمارے سلسلہ سے میں داخل ہوئی ہے وہ اُن کے استاد تھے ، انہیں معزز اور عقلمند سمجھتے تھے ۔ انہوں نے کہا جب مولوی صاحب احمدی ہو گئے ہیں تو آؤ ہم بھی احمدی ہو جائیں ۔ پس اُن کا تعلق ہمارے سلسلہ سے