خطبات محمود (جلد 19) — Page 684
خطبات محمود ۶۸۴ سال ۱۹۳۸ ء پہلوان بھی اسے چھوئے گا تو مُردہ چوہے کی طرح گر جائے گا اور اس کی طاقت اسے کوئی نفع نہیں پہنچا سکے گی ۔ تو دنیوی عزتوں کے حصول کے لئے لوگ بڑی بڑی قربانیاں کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ اس موقع پر اسی امر کا ذکر کرتا اور فرماتا ہے کہ اے مومنو! جب تم ہمارے پاس آئے ہو تو تمہیں یہ اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ بغیر ارْكَعُوا وَ اسْجُدُوا وَ اعْبُدُوا رَبَّكُمْ کے احکام پر عمل کرنے کے تمہیں کوئی کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی ۔ ہاں اگر تم اللہ تعالیٰ پر توکل کرو ، ہمارے احکام کی فرمانبرداری کا عہد کرو اور ہماری عبادت میں لگ جاؤ تو ہم تمہیں کامیاب کر دیں گے مگر دنیا ان باتوں پر عمل اپنے اوقات کا ضیاع سمجھتی ہے ۔ وہ کہتی ہے ہم پانچ وقت کی نمازیں پڑھیں تو کیوں پڑھیں ۔ اس سے ہمیں کوئی فائدہ تو نہیں ہوتا یو نہی وقت ضائع ہوتا ہے اور اگر ہم پنجوقتہ نمازیں پڑھنے لگیں تو باقی کام کب کریں؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ کی بات ہے یہاں ایک زمیندار آیا ۔ اس کو کسی شخص نے کہا تھا کہ قادیان جا کر دیکھو اور مرزا صاحب کی زیارت کرو تب تمہیں وہاں کی قدر و منزلت معلوم ہوگی ۔ مخالفوں کی باتوں پر اعتبار کرنا درست نہیں ۔ چنانچہ وہ اس تحریک پر قادیان آیا جب وہ واپس گیا تو لوگوں نے اس سے پوچھا کہ سناؤ قادیان گئے تھے تم نے کیا دیکھا ؟ وہ کہنے لگا واہ قادیان کی بڑی تعریفیں سُنی تھیں میں تو دیکھ آیا ہوں وہ تو آدمیوں کے رہنے کی جگہ ہی نہیں ۔ لوگوں نے اُس سے پوچھا آخر بتاؤ تو سہی ہوا کیا ؟ کہنے لگا کیا بتاوں ، وہ بھی کوئی جگہ ہے ۔ جب میں وہاں یکہ پر پہنچا تو نو دس بجے کا وقت تھا۔ میں نے چاہا کہ مہمان خانہ میں ذرا آرام کریں گے کہ کسی نے کہا چلو جی مولوی صاحب قرآن اور حدیث پڑھا رہے ہیں وہ سنیں ۔ میں نے کہا اچھا آرام پھر کریں گے۔ جب قادیان آئے ہیں تو قرآن اور حدیث سن لیں چنانچہ میں وہاں گیا وہ مطب میں بیٹھے تھے، بڑی دیر بیماروں کو دیکھتے رہے، پھر اُنہوں نے قرآن پڑھایا، پھر حدیث پڑھائی اور اسی طرح اور دینی باتیں کرتے رہے یہاں تک کہ بارہ بج گئے وہاں سے واپس آئے تو میں نے کہا چلو اب آرام سے حقہ پیتے ہیں مگر ابھی حقہ تیار ہی کرنے لگا تھا کہ ایک آدمی آیا اور کہنے لگا چوہدری صاحب کھانا تیار ہے پہلے یہ کھا لیں ۔ میں نے کہا اچھا کھانا کھا لیں پھر حقہ پی لیں گے۔