خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 676 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 676

خطبات محمود سال ۱۹۳۸ء مجھے یہ پتہ نہیں تھا کہ یہ سفید پوشی انسان کو ہر کارہ بناتی ہے۔مگر دنیا میں کتنے ہی لوگ ہیں جو اس کے لئے ہر قسم کی تکلیف گوارہ کرتے اور خواہش رکھتے ہیں کہ کسی طرح وہ ذیلدار یا سفید پوش بن جائیں۔قادیان ایک چھوٹا سا قصبہ ہے۔دُنیا جہان سے الگ ایک کونہ میں واقع ہے ساری دُنیا ہماری دشمن ہے۔قادیان کا نام سُن کر مخالف لوگ کوسوں بھاگتے ہیں۔مگر میں نے دیکھا ہے جہاں کوئی احمدی افسر ہوتا ہے وہاں کے بڑے بڑے زمیندار جو بعض دفعہ چار چار، پانچ پانچ ، چھ چھ یا دس دس ہزار ایکٹر زمین کے مالک ہوتے ہیں۔باوجود مخالفت کے ہمارے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں فلاں احمدی افسر کو ہمارے متعلق کوئی چٹھی لکھ دیں کیونکہ ہمارا اُن کے پاس سفید پوشی یا ذیلداری کا مقدمہ ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ سفید پوشی یا ذیلداری ہمیں مل جائے۔میں جب ان کو دیکھتا ہوں تو مجھے حیرت ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو گھر بیٹھے دولت و ثروت دی تھی اور یہ باپ دادا سے ہزاروں ایکڑ زمین کے مالک چلے آتے تھے اگر یہ ولایت میں ہوتے تو لارڈ اور ڈیوک اور مارکوئیس اور ارل اور کیا کیا ہوتے مگر یہ سفید پوشی یا ذیلداری کے لئے مارے مارے پھر رہے ہیں۔یوں شاید وہ مذہبی تعصب کی بناء پر ہم سے بات کرنا بھی اپنی ہتک کی سمجھیں مگر سفارش کرانے کے لئے ہمارے پاس آ موجود ہوتے ہیں۔تو ان کی حالت دیکھ کر مجھے نہایت ہی تعجب آتا ہے اور میں سوچتا ہوں کہ الہی یہ کیسی ذلت کو پہنچ گئے ہیں؟ اگر یہ اسی کی عزت پر قناعت کرتے جو خدا تعالیٰ نے ان کو دی تھی تو ذیلدار یا سفید پوش ہونے کی جد و جہد میں انہیں کئی قسم کی ذلتیں برداشت نہ کرنا پڑتیں۔حقیقت یہ ہے کہ وہ شخص جو اپنی عزت پر قناعت کرتا ہے اس کی ساری دنیا عزت کرتی ہے اور عزت تو اپنے ہاتھوں میں ہوتی ہے۔دنیا داروں میں سے بھی جو شریف لوگ ہوتے ہیں چاہے دین ان میں نہ ہو وہ اپنی عزت کے کی متعلق غیرت رکھتے ہیں اور اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دوسرے لوگ بھی ان کی عزت کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ہمارے دادا صاحب کی نسبت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتابوں میں لکھا ہے کہ وہ بڑے دُنیا دار تھے اور ہمیشہ دُنیا کے خیالات میں منہمک رہتے لیکن شرافت خاندانی کی جس اُن میں اس قدر تھی کہ پرانے لوگوں سے میں نے سُنا ہے کہ وہ ایک دفعہ کمشنر سے ملنے