خطبات محمود (جلد 19) — Page 651
خطبات محمود ۶۵۱ سال ۱۹۳۸ وو پس قَدْ قُتِلَ میں جو دلیل پیش کی گئی ہے یہ خطابیات میں سے ہو ہی نہیں سکتی۔کیونکہ بغیر قتل کہنے کے بھی اصل دلیل ثابت ہو سکتی تھی۔دوسرے مخاطب مسلمان ہیں ان پر بائیبل کے حوالوں کی کا کیا الزام تھا کہ ان کے سامنے یہ بات خطابی طور پر پیش کی جاتی۔پس یہ حوالہ ہرگز ایسا نہیں جس سے یہ استدلال کیا جا سکے کہ اس میں خطابیات کے طور پر حضرت یحییٰ علیہ السلام کا واقعہ قتل بیان کیا گیا ہے۔اس کی تائید میں ایک اور حوالہ تحفہ گولڑویہ سے بھی پیش کیا گیا ہے جو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدیم سنتوں اور عادتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جب مخالف اس کے نبیوں اور ماموروں کو قتل کرنا چاہتے ہیں تو ان کو ان کے ہاتھ سے اس طرح بھی بچالیتا ہے کہ وہ سمجھ لیتے ہیں کہ ہم نے اس شخص کو ہلاک کر دیا۔حالانکہ موت تک اس کی نوبت نہیں پہنچتی اور یا وہ سمجھتے ہیں کہ اب وہ ہمارے ہاتھ سے نکل گیا حالانکہ وہیں چھپا ہوا ہوتا ہے۔اور ان کے شر سے بچ جاتا ہے۔اے کہتے ہیں اس سے بھی معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء کو قتل سے محفوظ رکھتا ہے کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ دشمن کے ہاتھ سے انہیں اس طرح بھی بچا لیتا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں ہم نے اسے ہلاک کر دیا۔حالانکہ موت تک اس کی نوبت نہیں پہنچتی۔یا سمجھتے ہیں وہ ہمارے ہاتھ سے نکل گیا۔حالانکہ وہ وہیں چھپا ہوا ہوتا ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا حضرت یحیی علیہ السلام انہی انبیاء میں سے ہیں جن کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ قاعدہ بیان فرمایا ہے۔آخر اللہ تعالیٰ جب کسی کو دشمن کے ہاتھ سے بچاتا ہے تو لوگوں کو بتا تا بھی ہے کہ دیکھو میں نے اسے دشمن کے ہاتھ سے بچالیا۔مثلاً ہم کہتے ہیں دشمن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تعاقب میں غار ثور تک پہنچے۔مگر خدا تعالیٰ نے ان پر ایسا تصرف کر دیا کہ وہ آگے جھک کر نہ دیکھ سکے اور خائب و خاسر واپس لوٹ آئے۔لا اب جب ہم یہ کہتے ہیں۔کہ غار ثور میں اللہ تعالیٰ نے دشمنوں کے حملہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بچایا۔تو اس بچانے کی دلیل یہ دیتے ہیں۔کہ پھر کہتے ہیں وہ وہاں سے نکلے اور سلامتی کے ساتھ مدینہ پہنچ گئے۔اسی طرح جب ہم کہتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے صلیبی موت سے بچایا۔تو دلیل یہ دیتے ہیں کہ پھر وہاں سے بچ کر وہ تبلیغ کرتے کرتے کشمیر آگئے اور یہیں ایک لمبا عرصہ رہ کر انہوں نے ی