خطبات محمود (جلد 19) — Page 638
خطبات محمود ۶۳۸ سال ۱۹۳۸ء راستباز مؤرخ کا بیان بھی مل جاتا ہے جو حضرت یحیی علیہ السلام کے صرف پچاس سال بعد آپ کی کا واقعہ لکھ رہا ہے اور پھر بھی ہم اسے درست تسلیم نہ کریں تو ہم کسی بات کو بھی یقینی نہیں کہہ سکتے۔پھر تو غدر کے متعلق بھی محبہ کیا جاسکتا ہے۔کہ ہوا یا نہیں یہ بھی محبہ ہوسکتا ہے۔کہ انگریز کہیں باہر سے نہیں آئے بلکہ ہندوستان ہی کی ایک قوم ہیں۔یہ بھی محبہ ہوسکتا ہے کہ شاید مولوی اسماعیل صاحب شہید کوئی آدمی ہی نہیں گزرے۔ابوظفر بادشاہ کے متعلق بھی کہا جاسکتا ہے کہ ان کا کوئی تاریخی وجود نہ تھا۔کیونکہ ان کی موت پر ۸۲ سال گزر چکے ہیں۔اور اتنی دیر کی بات صحیح نہیں سمجھی جاسکتی سید احمد صاحب بریلوی پر سو سال سے اوپر گزر چکے ہیں ان کے وجود میں بھی محبہ کیا جاسکتا ہے پھر مہا راجہ رنجیت سنگھ کی موت پر قریباً نوے سال گزر چکے ہیں ان کے وجود کا بھی انکار کیا جاسکتا ہے مگر کیا ان تمام واقعات میں سے کسی ایک کے متعلق بھی ہمیں شبہ ہوا ہے۔ہم کہتے ہیں کہ ان میں محبہ نہیں ہوسکتا کیونکہ یہی قریب کے واقعات ہیں۔اور ہزاروں لوگ جانتے ہیں کہ یہ باتیں ہوئی ہیں۔اسی طرح یہ ناممکن ہے کہ جوزیفس کی شہادت کو رڈ کیا جاسکے۔کیونکہ وہ ایک ایسے زمانہ میں ہوا ہے جبکہ حضرت یحییٰ علیہ السلام کے واقعہ پر ابھی صرف پچاس ساٹھ سال گزرے تھے۔اور ہزاروں نہیں لاکھوں آدمی ان کے مریدوں میں سے زندہ تھے۔اور اسوقت کے حالات کو دیکھنے والے یا دیکھنے والوں سے سننے والے موجود تھے۔ایسے زمانہ میں ایسا مشہور مؤرخ یہ نہیں لکھتا۔کہ حضرت یحییٰ علیہ السلام فوت ہوئے ہیں بلکہ یہ لکھتا ہے کہ وہ قتل کئے گئے۔پس ان کا قتل تاریخی طور پر یقیناً ثابت ہے۔پھر تاریخ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یحییٰ علیہ السلام کی جماعت صدیوں تک قائم رہی ہے اور صدیوں تک ان پر ایمان لانے والے دنیا میں موجود رہے ہیں۔اور ان تمام کا یہی کی عقیدہ تھا کہ حضرت یحیی علیہ السلام شہید ہوئے ہیں عیسائی بھی یہی کہتے ہیں کہ وہ شہید ہوئے یہودی بھی یہی کہتے ہیں کہ وہ شہید ہوئے۔مؤرخ بھی یہی کہتے ہیں کہ وہ شہید ہوئے۔اب یہ عجیب بات ہے کہ اُس وقت حضرت بیٹی کے ملک میں تین قومیں موجود تھیں اور تینوں کی متفقہ شہادت یہ ہے کہ حضرت یحییٰ علیہ السلام قتل ہوئے۔یہودی کہتے ہیں کہ حضرت بیچی علیہ السلام قتل ہوئے ،