خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 617 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 617

خطبات محمود ۶۱۷ سال ۱۹۳۸ ء پھر آپ نے ہمیں حضرت مسیح کی وفات کے ثبوت میں یونس نبی والی پیش گوئی بھی دکھائی ) لیکن ایسے امور میں نبیوں ہی کی بات پر انحصار کیا جا سکتا ہے کیونکہ یہ معجزے ہیں اور معجزوں کو انبیاء ہی زیادہ جان سکتے ہیں ۔ ہم میں سے بیسیوں اشخاص اس بات کے زندہ گواہ ہیں کہ حضرت خلیفہ اول جب کتاب نورالدین لکھ رہے تھے تو اس میں آپ نے لکھا کہ حضرت ابراہیم کو آگ میں ڈالنے کا جو ذکر ہے اس سے مراد لڑائی کی آگ ہے ۔ آپ نے خیال کیا کہ آگ میں پڑ کر زندہ بچنا تو بہت مشکل ہے اس لئے آگ سے مراد لڑائی کی آگ لی ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام ان دنوں بسر اواں کی طرف سیر کو جایا کرتے تھے مجھے یاد ہے میں بھی ساتھ تھا کسی نے چلتے ہوئے کہا کہ حضور بڑے مولوی صاحب نے بڑا لطیف نقطہ بیان کیا ہے ( جو لوگ عام طور پر عقلی باتوں کی طرف زیادہ راغب ہوں وہ ایسی باتوں کو بہت پسند کرتے ہیں ) لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام قریباً ساری سیر میں اس بات کا رد کرتے رہے اور فرمایا کہ میری طرف سے مولوی صاحب کو کہہ دو کہ یہ مضمون کاٹ دیں ۔ ہمیں الہام ہوا ہے کہ ” آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی غلام ہے تو حضرت ابراہیم سے اگر اللہ تعالی نے ایسا سلوک کیا تو کیا بعید ہے ۔ کیا طاعون آگ سے کم ہے اور دیکھ لو کیا یہ کم معجزہ ہے کہ چاروں طرف طاعون آئی مگر ہمارے مکان کو اللہ تعالی نے اس سے محفوظ رکھا ۔ پس اگر حضرت ابراہیم کو اللہ تعالیٰ نے آگ سے بچالیا ہو تو کیا بعید ہے ۔ ہماری طرف سے مولوی صاحب سے کہہ دو کہ یہ مضمون کاٹ دیں چنانچہ آپ نے کاٹ دیا۔ تو معجزات کے بارہ میں انبیاء کی ہی رائے سہی سمجھی جاسکتی ہے کیونکہ وہ ان کی دیکھی ہوئی باتیں ہوتی ہیں ۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ آدھ آدھ گھنٹہ باتیں کرتا ہے، سوال کرتا اور جواب پاتا ہے، اس کی باتوں تک تو خواص بھی نہیں پہنچ سکتے کجا یہ کہ عوام الناس جنہوں نے کبھی خواب بھی نہیں دیکھا اور اگر دیکھا ہو تو ایک دو سے زیادہ نہیں اور پھر اگر زیادہ بھی دیکھیں تو دل میں تردد رہتا ہے کہ شاید یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے یا نفس کا ہی خیال ہے۔ جو کہتے ہیں کہ ادھر ہم نے سونے کے لئے تکیہ پر سر رکھا اور ادھر یہ آواز آنی شروع ہوئی کہ دن میں تمہیں بہت گالیاں لوگوں نے دی ہیں مگر فکر نہ کرو ہم تمہارے ساتھ ہیں اور تکیہ پر سر رکھنے سے لے کر اُٹھنے تک اللہ تعالیٰ اسی طرح تسلیاں دیتا رہا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے