خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 616 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 616

خطبات محمود ٦١٦ سال ۱۹۳۸ ء کی تعلیم کے خلاف ہے۔ یہی نیکی کا موقع مولوی راجیکی صاحب کو ملا لیکن وہ مولوی محمد اسمعیل صاحب سے انقباض رکھنے یا ان کو سلسلہ کا واحد ذمہ دار سمجھنے کی وجہ سے اس ثواب سے محروم رہ گئے ۔ را جیکی اس جگہ ایک لطیفہ بیان کرنے سے میں نہیں رک سکتا ۔ وہ لطیفہ یہ ہے کہ مولوی را : طیفہ بیان کرنے سے میں نہیں رک سکتا صاحب نے مولوی محمد اسمعیل صاحب کے مضمون کے رڈ میں لکھا ہے کہ حضرت خلیفہ اول اس نے مولوی محمد کے کے رد حضرت اس کے خلاف کہا کرتے تھے اور اُن کا یہ عقیدہ تھا کہ حضرت یحی قتل نہیں ہوئے ۔ ( حالانکہ جیسا کہ میں بتا چکا ہوں پہلے آپ کا یہ عقیدہ تھابعد میں آپ نے غلطی تسلیم کر لی لیکن انہیں شاید معلوم ) نہیں کہ جس دوسرے مضمون کی تردید وہ کرنا چاہتے ہیں اُس میں بھی حضرت خلیفہ مسیح الاوّل کا خیال یہی تھا کہ یونس کو مچھلی نے نہیں نگلا بلکہ مچھلی کو یونس نے نگلا تھا ۔ جن لوگوں نے حضرت خلیفہ اول سے قرآن شریف پڑھا ہے وہ جانتے ہیں کہ آپ فرمایا کرتے تھے کہ عربی زبان میں بعض جگہ نسبت بدل جاتی ہے اس لئے اس آیت کے یہ معنی ہیں کہ حوت حضرت یونس کے پیٹ میں چلی گئی تھی ۔ علاوہ عربی مثالوں کے حضرت خلیفہ اول اُردو کی بھی یہ مثال دیا کرتے تھے کہ جیسے کہتے ہیں کہ پرنالہ چلتا ہے حالانکہ پرنالہ نہیں چلتا بلکہ پانی چل رہا ہوتا ہے۔ تو حضرت خلیفہ اول عربی کی بہت سی مثالیں پیش کر کے کہا کرتے تھے کہ حوت حضرت یونس کے پیٹ میں گئی تھی اور پھر وہ بیمار ہو گئے للبث في بطنة اس کے معنی آپ یہی فرمایا کرتے تھے کہ اگر خدا تعالیٰ کا فضل نہ ہوتا تو مچھلی حضرت یونس کے پیٹ سے نہ نکلتی اور ان کی ہلاکت کا موجب ہو جاتی مگر اللہ تعالیٰ نے فضل کیا اور مچھلی کو آپ کے پیٹ سے نکال دیا ۔ آپ فرماتے تھے معلوم ہوتا ہے مچھلی کھا کر تمہ ہوا آخر اللہ تعالیٰ نے زہر خارج کر دیا اور آپ بچ گئے ۔ پس اس بارہ میں بھی حضرت خلیفہ اول کا عقیدہ یہی تھا جو ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے بیان کیا ہے ۔ (لیکن جہاں تک میں سمجھتا ہوں اس خیال کو بھی آپ نے بعد میں بدلا کیونکہ مجھے خطبہ کے بعد میر صاحب کا خط ملا ہے جس میں وہ لکھتے ہیں کہ میں اپنے مضمون پر نادم ہوں اور مجھے یقین ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ وال ة والسلام کے عقیدہ کے خلاف کچھ بھی لکھنا گناہ ہے اس لئے میں اس پر ندامت کا اظہار کرتا ہوں۔