خطبات محمود (جلد 19) — Page 601
خطبات محمود ۶۰۱ سال ۱۹۳۸ء مسیح موعود کا طفیل ہو گا اور آپ کی خوشہ چینی اور آپ کی متابعت کی برکت ہوگی جیسا کہ ہم جو کچھ بیان کرتے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے طفیل اور آپ کی برکت سے ہے۔آخر اللہ تعالیٰ کے انبیاء جو آتے ہیں وہ کتاب اللہ کی ساری تفسیر خود تو نہیں کر جاتے وہ اپنے ماننے والوں کے اندر ایسا ملکہ پیدا کر دیتے ہیں کہ جس سے فائدہ اُٹھاتے اور اسے ترقی دیتے ہوئے وہ نئی سے نئی تفسیریں کر سکتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابوں میں بھی بہت کم قرآنی آیات ہیں جن کی آپ نے تفسیر کی ہے اور جن آیات کی آپ نے تفسیر فرمائی بھی ہے ان میں سے بھی چند آیات ہی ایسی ہیں جن کے ایک سے زیادہ معارف آپ نے بیان کئے ہیں۔ورنہ عام طور پر ایک آیت کے ایک معنے ہی آپ نے کئے ہیں۔اب اگر ہم کسی آیت کے پانچ یا سات یا دس معنے بھی کر دیتے ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے نَعُوذُ بِالله بڑھ گئے یا آپ کے معانی کو ہم نے رڈ کر دیا کیونکہ ہم جو کچھ بیان کریں گے آپ سے فیض حاصل کی کر کے کریں گے اور ہم جس قدر معارف لوگوں پر ظاہر کریں گے وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی متابعت کے طفیل کریں گے۔پس چونکہ ہمارے معانی آپ کی شان کو بلند کرنے والے ہوں گے اور وہ اس صداقت کا ایک زندہ نشان ہوں گے جو آپ نے ہمارے سامنے رکھی که قرآن کریم غیر محدود معارف کا خزانہ ہے اس لئے ان کے بیان کرنے میں نہ صرف کوئی حرج نہیں بلکہ ان کے بیان کرنے سے اسلام اور احمدیت کی عظمت ظاہر ہوتی ہے لیکن اگر کوئی کی شخص حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بیان کردہ معنوں کے خلاف قرآن کریم کی کسی آیت کے کوئی اور معنے کرے تو ہم وہ معنے اسے نہیں کرنے دیں گے۔بے شک بعض دفعہ انسان بجائے اپنا عقیدہ یا اپنا مذہب بیان کرنے کے دوسروں کے عقیدہ کو بھی اپنے الفاظ میں بیان کرج دیتا ہے مگر اس وقت وہ اس سے اپنی صداقت کا استدلال نہیں کرتا مگر یہاں تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام زور دیتے اور فرماتے ہیں کہ میری حضرت مسیح سے ایک مشابہت یہ بھی ہے کہ ان سے پہلے حضرت یحیی علیہ السلام بطور ارہاص آئے جو شہید ہوئے اور مجھ سے پہلے حضرت سیّد احمد صاحب بریلوی بطور ا رہاص آئے جو شہید ہوئے۔اس روایت کا ایک تو میں گواہ ہوں ، ایک ماسٹر عبدالرحمن صاحب گواہ ہیں اور ایک حافظ محمد ابراہیم صاحب گواہ ہیں اور کی