خطبات محمود (جلد 19) — Page 600
خطبات محمود ٦٠٠ سال ۱۹۳۸ ء لکھوا چکا تو شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی یا حافظ روشن علی صاحب مرحوم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک حوالہ نکال کر میرے سامنے پیش کیا اور کہا کہ آپ نے تو یوں لکھوایا ہے مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یوں فرمایا ہے میں نے اس حوالہ کو دیکھ کر اُسی وقت دوستوں سے کہہ دیا کہ میں نے عرش کے متعلق آپ لوگوں کو کو جو جو کچھ کچھ لکھوایا لکھ ہے وہ وہ غلط ہے اور اسے اپنی کاپیوں میں سے کاٹ ڈالیں ۔ چنانچہ جو لوگ اُس وقت میرے درس میں شامل تھے وہ گواہی دے سکتے ہیں اور اگر ان کے پاس اُس وقت کی کاپیاں موجود ہوں تو وہ دیکھ سکتے ہیں کہ میں نے عرش کے متعلق نوٹ لکھوا کر بعد میں جب مجھے معلوم ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا عقیدہ اس کے خلاف ہے اسے کاپیوں سے کٹوا دیا اور کہا کہ ان اوراق کو پھاڑ ڈالو کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کے خلاف لکھا ہے ۔ اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فرمان کے مقابلہ میں بھی ہم اپنی رائے پر اڑے رہیں اور کہیں کہ جو کچھ ہم کہتے ہیں وہی صحیح ہے اور اپنے نفس کی عزت کا خیال رکھیں تو اس طرح تو دین اور ایمان کا کچھ بھی باقی نہیں رہ سکتا ۔ پس یا د رکھو کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام حکم عدل ہیں اور آپ کے فیصلوں کے خلاف ایک لفظ کہنا بھی کسی صورت میں جائز نہیں ۔ ہم آپ کے بتائے ہوئے معارف کو قائم رکھتے ہوئے قرآن کریم کی آیات کے دوسرے معانی کر سکتے ہیں مگر اسی صورت میں کہ ان میں اور ہمارے معافی میں تناقض نہ ہو۔ میرا اس سے یہ مطلب نہیں کہ ہمارے لئے نئے معانی کرنے نا جائز ہیں بے شک تم قرآن کریم کے معارف بیان کرو اور ایک ایک آیت کے ہزاروں نہیں لاکھوں معارف بیان کرو۔ یہ سب تمہارے لئے جائز ہوگا اور ہمارے لئے خوشی کا موجب بلکہ اگر تم قرآن کریم کی ایک ایک آیت کو سو سو جزو کی تفسیر بھی بنا ڈالو تو اگر وہ قابلِ قدر ہو گی ہمارے دل اس پر فخر محسوس کریں گے کیونکہ ہر باپ چاہتا ہے کہ اس کا بیٹا اس سے بڑھ کر عالم ہو مگر یہ اسی صورت میں ہو گا کہ تمہارا کوئی استدلال اور تمہارا کوئی نکتہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیان فرمودہ تعلیم کے خلاف نہ ہو اور اگر تم کسی آیت کے کوئی ایسے معنے کرتے ہو جنہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے رڈ کیا ہے تو وہ معنے رڈ کئے جائیں گے لیکن آپ کی تعلیم کو برقرار رکھتے ہوئے اگر تم بعض زائد مطالب قرآنی آیات کے بیان کر دیتے ہو تو وہ با