خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 599 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 599

خطبات محمود ۵۹۹ سال ۱۹۳۸ ہیں یہ ہمارا حق ہے کہ ہم ان مضامین کے متعلق اُس علم کو پیش کریں جو ہم نے براہ راست حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے سنا اور نئے علماء کا خواہ وہ علم میں ہم سے ہزاروں گنے زیادہ ہوں، یہ حق نہیں کہ وہ اس حصہ میں اپنے علم کو پیش کریں۔ان تمام باتوں میں جن میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کوئی بات ثابت ہو ہما را حق اور ہمارا کام ہے کہ ہم جماعت کی راہبری کریں اور دُنیا کا کوئی شخص ہمارے اس مقام کو ہم سے چھین نہیں سکتا اور اگر کوئی شخص یہ حق صحابہ مسیح موعود علیہ السلام سے چھینے گا تو وہ خود بھی گمراہ ہوگا اور دوسروں کو بھی گمراہ کرے گا۔صداقت ہمارے پاس ہے اور ہمارے کانوں میں ابھی تک وہ آوازیں گونج رہی ہیں جو ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے براہ راست سنیں۔میں چھوٹا تھا مگر میرا مشغلہ یہی تھا کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مجلس میں بیٹھارہتا اور آپ کی باتیں سنتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تمام کتابیں اب بھی میں نہیں کہہ سکتا کہ میں نے پڑھی ہوں مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے براہ راست ہم نے اس قدر مسائل سنے ہوئے کی ہیں کہ جب آپ کی کتابوں کو پڑھا جاتا ہے تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ تمام باتیں ہم نے پہلے سنی ہوئی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی عادت تھی کہ آپ دن کو جو کچھ لکھتے دن اور شام کی مجلس میں آکر بیان کر دیتے اس لئے آپ کی تمام کتابیں ہم کو حفظ ہیں اور ہم ان کی مطالب کو خوب سمجھتے ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے منشاء اور آپ کی تعلیم کے مطابق کی ہوں۔بیشک بعض باتیں ایسی بھی ہیں جو صرف اشارہ کے طور پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتابوں میں پائی جاتی ہیں۔تفصیلات کا ان میں ذکر نہیں اور اُن باتوں کے متعلق ہمیں ان دوسرے لوگوں سے پوچھنا پڑتا ہے جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صحبت اُٹھائی ہے اور اگر ان سے بھی کسی بات کا علم حاصل نہیں ہوتا تو پھر ہم قیاس کرتے اور اس علم سے کام لیتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں بخشا ہے مگر باوجود اس کے میرا اپنا طریق یہی ہے کہ اگر مجھے کسی بات کے متعلق یہ معلوم ہو کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کوئی تحریر اس کے خلاف ہے تو میں فوراً اپنی بات کو ر ڈ کر دیتا ہوں۔اسی مسجد میں ۱۹۲۲ ء یا ۱۹۲۸ء کے درس القرآن کے موقع پر میں نے عرش کے متعلق ایک نوٹ دوستوں کو لکھوایا جو اچھا خاصہ لمبا تھا مگر جب میں وہ تمام نوٹ