خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 591 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 591

خطبات محمود ۵۹۱ سال ۱۹۳۸ء ہو جاتی ہے۔حضرت خلیفہ امسیح الاوّل کا پہلے یہی عقیدہ تھا کہ سورۂ فاتحہ پڑھے بغیر رکعت نہیں ہوتی مگر جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے آپ نے یہ سنا کہ رکعت ہو جاتی ہے تو آپ نے فرمایا اب میں نے اپنی رائے بدل لی ہے۔پھر فرمایا کہ اب میں اس حدیث کے یہ معنے لے لوں گا کہ اگر کوئی شخص عمداً سورۃ فاتحہ نہیں پڑھتا یا نماز میں شامل نہیں ہوتا اور اس انتظار میں بیٹھا رہتا ہے کہ امام رکوع میں گیا تو میں شامل ہو جاؤں گا اس کی وہ رکعت نہیں ہو گی مگر جو شخص اتفاق سے ایسے وقت پہنچتا ہے جب کہ امام رکوع میں ہے تو چونکہ اس کی نیت یہی تھی کہ میں سورۂ فاتحہ پڑھوں اس لئے جب وہ رکوع میں شامل ہو گیا تو اس کی نیت اور مجبوری کو دیکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ وہ رکعت اس کے نام لکھ دے گا اور وہ ایسا ہی سمجھا جائے گا جیسے دوسرے جنہوں نے سورہ فاتحہ پڑھی۔تو اگر کوئی گلیہ بیان ہو اور دوسری جگہ بعض مستثنیات کا ذکر ہو تو مستثنیات کو شامل کر کے اس گلیہ کو بیان کرنا پڑے گا جیسے میں نے بتایا ہے کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَا بَيْعٌ فِيهِ وَلَا خُلَّةٌ وَّلَا شَفَاعَةٌ کہ قیامت کے دن نہ بیج ہوگی نہ دوستی ہوگی نہ شفاعت ہوگی۔حالانکہ ہر مسلمان جانتا ہے کہ شفاعت کا مسئلہ درست ہے اور جاہل سے جاہل مسلمان بھی اس کی بات پر ایمان رکھتا ہے کہ قیامت کے دن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے شفیع ہوں گے۔حتی کہ قرآن کریم بھی دوسرے مقام پر فرماتا ہے کہ وہاں شفاعت تو ہو گی مگر باذن اللہ ہو گی ۳۶ اور حدیثوں میں تو نہایت تفصیل سے واقعہ شفاعت کو بیان کیا گیا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن میں اپنی اُمت کی شفاعت کروں گا ، اور یہ بھی فرماتے ہیں کہ باقی انبیاء بھی اور ملائکہ بھی بلکہ مؤمن بھی شفاعت کریں گے اور جب سب شفاعت کر کے فارغ ہو جائیں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا میرے نبیوں نے بھی شفاعت کر کے اپنا حق لے لیا ، میرے صدیقوں نے بھی شفاعت کر کے اپنا حق لے لیا، میرے شہیدوں نے بھی شفاعت کر کے اپنا حق کی لے لیا اور میرے نیک اور پاک بندوں نے بھی شفاعت کر کے اپنا حق لے لیا۔اب صرف میں رہ گیا ہوں۔آؤ میں بھی اپنے علم اور رحمت سے کام لوں اور وہ اپنا ہاتھ ڈال کر دوزخ سے نکال لے گا اور اس کے نکالے ہوئے باقی سب کی شفاعت والے لوگوں سے کئی گنے زیادہ ہوں گے۔