خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 585 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 585

خطبات محمود ۵۸۵ سال ۱۹۳۸ ء اس دوسرے حصہ سے ثابت ہے کہ علماء کے نزدیک صرف تاریخی بنیاد پر اس آیت کے یہ معنے کئے گئے ۔ گئے ہیں کہ اس میں نبیوں کو قتل کرنا مراد نہیں بلکہ ان کے قتل کی کوشش مراد ہے کیونکہ اس آیت میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کی طرف اشارہ ہے جو قتل نہیں کئے گئے اور اس سے اگلی عبارت میں گونص نہیں لیکن اس طرف اشارہ ضرور موجود ہے کہ ترجمہ کرنے والوں کے نزدیک انبیاء کا مجرد قتل نا ممکن نہیں ہے ۔ کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ حضرت موسی کے زمانہ تک کسی نبی کا قتل ثابت نہیں ۔ پس مولوی صاحب کا فرض تھا کہ اس حصہ کو بھی آپ بیان کرتے کیونکہ یہ میدان مباحثہ نہ تھا جہاں کبھی دشمن کو خاموش کرانا مقصود ہوتا ہے بلکہ اپنے اخبار میں احقاق حق کی کوشش ہو رہی تھی ۔ اگر مولوی صاحب کو کسی اور نے اس طرح قطع و برید کر کے یہ حوالہ نہیں دیا تو یقیناً اس رنگ میں حوالہ نقل کرنا جائز نہ تھا ۔ اگر علماء کا قول کوئی حیثیت رکھتا ہے اور اس سے مولوی محمد اسمعیل صاحب کو خاموش کرایا جا سکتا ہے تو پھر ان کا وہ خیال بھی تو سامنے آنا چاہئے تھا جو زیر بحث مسئلہ کے بارہ میں تھا۔ اصل بات یہ ہے کہ مولوی محمد اسمعیل صاحب نے بغیر قرآن نکال کہ دیکھے عام تفسیری معنوں پر انحصار کر لیا اور یہ آیت بیان کر دی لیکن جیسا کہ ہم نے لکھا ہے اس جگہ قتل کے معنے قتل کے نہیں ہو سکتے ۔ کیونکہ مُشَارٌ عَلَيْهِمُ حضرت موسیٰ اور ہارون یا ان سے پہلے کے نبی ہیں اور وہ بالا تفاق قتل نہیں ہوئے ۔ مفسرین نے اس امر پر غور نہیں کیا اور عام عقیدہ کے مطابق یہاں بھی لکھ دیا ہے کہ وہ نبیوں کو قتل کرتے تھے ۔ ہم نے اس فرق کو ظاہر کیا ہے اور بتایا ہے کہ اس آیت میں یہ معنے نہیں ہو سکتے کیونکہ اس وقت تک کسی نبی کا قتل ثابت نہیں مگر اس آیت کے علاوہ اور آیات ہیں جن پر یہ اعتراض نہیں ہو سکتا مثلاً آل عمران میں لکھا ہے ذلِكَ بِأَنَّهُمْ كَانُوا يَكْفُرُونَ بِأَيْتِ اللَّهِ وَ يَقْتُلُونَ الْأَنْبِيَاءَ بِغَيْرِ حَقٌّ ، ذَلِكَ بِمَا عَصَوْا وَ كَانُوا يَعْتَدُونَ ہے اسی طرح اور مقامات میں بھی یہ مضمون بیان کیا گیا ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ نبیوں کا قتل ایک اہم امر ہے اور عام طور پر ہم ایسے معنے کرنے کی طرف راغب رہتے ہیں جن سے اس مضمون کی وسعت کو محدود کیا جائے مگر جہاں خدا تعالیٰ کی گواہی ہوا سے کیونکر رڈ کیا جا سکتا ہے ۔ غرضیکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ تک کسی نبی کا قتل بنی اسرائیل سے ثابت نہیں