خطبات محمود (جلد 19) — Page 575
خطبات محمود ۵۷۵ سال ۱۹۳۸ ء نہیں مرے۔ پس اگر ہم وہاں یہ معنے کرتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام صلیب پر نہیں مرے تو اس کی ہمارے پاس دلیل ہوتی ہے اور ہم کہتے ہیں چونکہ یہود کا یہ اعتقاد تھا کہ صلیب پر مر نے والا لعنتی ہوتا ہے اور دوسری طرف ان کا یہ دعوی تھا کہ ہم نے مسیح کو مصلوب کر دیا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید کی مگر یہاں تو اس قسم کا کوئی اعتراض نظر نہیں آتا ۔ پس کوئی وجہ نہیں کہ اس آیت کے ایسے معنے کئے جائیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم کے سراسر خلاف ہیں ۔ میں جیسا کہ بیان کر چکا ہوں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے ہم نے ہمیشہ یہ بات سنی ہے کہ حضرت یحییٰ علیہ السلام شہید ہوئے تھے۔ ممکن ہے حضرت خلیفہ اول کی شاگردی کے لحاظ سے ابتدائی ایام میں میں نے بھی کبھی کہہ دیا ہو کہ حضرت یحییٰ علیہ السلام مقتل نہیں ہوئے کیونکہ قرآن کریم میں نے حضرت خلیفہ اول سے ہی پڑھا ہے ۔ گو مجھے یاد نہیں کہ میں نے کبھی ایسا کہا ہولیکن یہ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سامنے یہ آیت رکھی تو آپ نے ان معنوں کو غلط قرار دیا جو عام طور پر کئے جاتے ہیں اور فرمایا کہ حضرت یحییٰ علیہ السلام شہید ہوئے تھے ۔ آپ نے اس کے متعلق مجھے یہ دلیل بتائی تھی ۔ وہ جیسا کہ میں بتا چکا ہوں مجھے یاد نہیں مگر میں اس وقت اس آیت کی تشریح کر کے بتا چکا ہوں کہ اس میں قتل کا کوئی ذکر ہی نہیں ۔ اس میں تین زندگیوں کا ذکر کیا گیا ہے ایک وہ زندگی ہے جس کی پیدائش سے ابتداء ہوتی ہے، دوسری وہ زندگی ہے جس کی موت سے ابتداء ہوتی ہے اور تیسری وہ زندگی ہے جس کی یوم البعث سے ابتداء ہوتی ہے۔ پیدائش سے ابتداء دُنیوی زندگی کی ہوتی ہے۔ موت سے ابتداء برزخی زندگی کی ہوتی ہے اور یوم البعث سے ابتداء اخروی زندگی کی ہوتی ہے اور قرآن کریم سے یہ تینوں زندگیوں کے متعلق اللہ تعالیٰ نے بیان کر دیا کہ حضرت یحییٰ علیہ السلام ان سب زندگیوں میں خدا تعالیٰ کی سلامتی کے نیچے ہیں ۔ وہ دُنیوی زندگی میں بھی اس کی سلامتی کے مور د ر ہے، وہ برزخی زندگی میں بھی اس کی سلامتی کے مورد ہیں اور وہ اُخروی در کی زندگی میں بھی اس کی سلامتی کے مورد ہوں گے اور یہ سلام صرف حضرت عیسی علیہ السلام اور حضرت یحی کے لئے نہیں آیا بلکہ سب مومنوں کے لئے آیا ہے ۔ چنانچہ سورہ انعام میں آتا ہے