خطبات محمود (جلد 19) — Page 572
خطبات محمود ۵۷۲ سال ۱۹۳۸ء دیا کرتے تھے جو مولوی ابو العطاء صاحب نے اپنے پہلے مضمون میں پیش کئے ہیں۔آپ بھی فرمایا کرتے تھے دیکھو حضرت یحیی علیہ السلام کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَسلم عَلَيْهِ يَوْمَ وُلِدَ وَيَوْمَ يَمُوتُ وَيَوْمَ يُبْعَثُ حَيَّان لے کہ اس پر سلامتی ہے جس دن وہ پیدا ہوا اور سلامتی ہے جس دن فوت ہوا اور سلامتی ہے جس دن دوبارہ اُٹھایا جائے گا۔اس آیت کے ہوتے ہوئے یہ کس طرح تسلیم کیا جا سکتا ہے کہ آپ شہید ہوئے ہیں۔مجھے یاد ہے ایک دفعہ جب حضرت خلیفہ اول نے یہی دلیل پیش فرمائی تو مجھے کہا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بھی جب موقع لگے یہ آیت پوچھنا۔میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سامنے یہ آیت جا کر پیش کر دی اور عرض کیا کہ اس آیت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حضرت یحییٰ علیہ السلام قتل نہیں ہوئے۔مجھے اس وقت یہ یاد نہیں کہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے یہ کہا کہ اس بارہ میں مجھے حضرت مولوی صاحب نے فرمایا ہے یا یہ نہیں کہا مگر ایک دوسری روایت جو اصحاب الکہف کے متعلق میں بیان کیا کرتا ہوں اس کے متعلق تو مجھے یہ اچھی طرح یاد ہے کہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ذکر کر دیا تھا کہ حضرت مولوی صاحب نے مجھے کہا ہے کہ میں آپ سے اس کے متعلق پوچھوں مگر آپ نے سُن کر فرمایا مولوی صاحب کی غلطی ہے۔اصحاب الکہف تو میری جماعت کا نام بھی رکھا گیا ہے۔اس لئے اس سے مراد کوئی مشرک جماعت نہیں ہو سکتی۔( بعد میں اللہ تعالیٰ نے مجھے ایسے معنے سمجھا دیئے جن سے دونوں معنے باہم مطابق ہو جاتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بھی اور حضرت خلیفہ اول کے بھی ) غرض مجھے یقینی طور پر یہ یاد نہیں کہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس اس دوسرے حوالہ کے بارہ میں یہ ذکر کیا یا نہیں کہ حضرت مولوی صاحب نے مجھے اس کے دریافت کرنے کے لئے کہا تھا۔بہر حال میں گیا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سامنے میں نے یہ آیت پیش کی اور عرض کیا کہ لوگ کہتے ہیں یا میں نے یہ کہا کہ حضرت مولوی صاحب فرماتے ہیں کہ اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت یحیی علیہ السلام شہید نہیں ہوئے اس پر آپ نے قرآن کریم منگوایا۔یا قرآن کریم اس وقت میں ہی ساتھ لے کر گیا تھا اور اسے آپ نے کھولا اور سورۃ مریم میں سے یہ آیت نکال کر اس کے دوسرے حصے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا۔