خطبات محمود (جلد 19) — Page 52
خطبات محمود ۵۲ سال ۱۹۳۸ ء دینے کا سوال آتا ہے تو ہم میں سے بعض کہہ دیتے ہیں کہ ہم لڑکیوں کو حصہ دے کر اپنی زمینیں خراب کر لیں تو دوسرے شخص پر بھی یہی اثر ہوتا ہے کہ معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم کی تعلیم ایسی ہے جس سے نقصان کا اندیشہ ہے ۔ یا جب سچ بولنے کا موقع آتا ہے تو ایک احمدی کہہ دیتا ہے کہ ”جی سارے اے ہی کہندے ہندے نے۔ پر کدی سچ نال ہر ویلے گزارہ ہندا اے، یعنی منہ سے تو سچ بولنے کی تاکید ہر کوئی کر دیتا ہے مگر کیا ہمیشہ سچ بولنے سے دنیا میں گزارہ چل سکتا ہے اس لئے سننے والا خیال کرتا ہے کہ جو کہتا ہے ضرور سچ بولنا چاہئے ممکن ہے وہی غلطی پر پر ہے ہو۔ میں اس کے پیچھے لگ کر کیوں خواہ مخواہ اپنا نقصان کروں ۔ شبہ سے ایمان اور یقین دوسرے کے دل ۔ میں پیدا نہیں ہو سکتا ۔ یہ اُسی وقت ہوتا ہے جب اپنے دل میں بھی ایمان اور یقین ہو۔ اور جو شخص خود عمل نہیں کرتا اس کے معنے یہی ہیں کہ اس کے دل میں قرآن کریم پر ایمان نہیں ۔ ایک دفعہ ایک آدمی میرے پاس آیا اور سوال کیا کہ قرآن کریم سے مرزا صاحب کی صداقت کا کوئی ثبوت پیش کریں۔ ایسے لوگ اکثر آتے رہتے ہیں مگر یہ جس کا میں ذکر کر رہا ہوں سال دوسال کی بات ہے کہ میرے پاس آیا اور کہا کہ قرآن سے کوئی ثبوت دیں۔ میں نے کہا کہ سارا قرآن ہی آپ کی صداقت کا ثبوت ہے۔ اس نے کہا کہ آپ کوئی آیت پیش کریں۔ میں نے کہا کہ آپ کوئی آیت لے لیں ۔ وہ کہنے لگا وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ آمَنَّا بِاللَّهِ وَبِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَمَا هُمْ بِمُؤْمِنِينَ کے اس سے ثابت کریں۔ میں نے کہا اس سے بھی ثابت ہے اور میں نے اسے بتایا کہ اس سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت اس رنگ میں ثابت ہوتی ہے کہ اس سے معلوم ہوتا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی ایسے لوگ تھے جو ایمان کا دعویٰ تو کرتے تھے مگر دراصل وہ مومن نہ تھے اور اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایسے لوگ تھے تو اب کیوں نہیں ہو سکتے ۔ آپ لوگ یہی کہتے ہیں کہ جب قرآن کریم موجود ہے اور ہم سب ایمان لا چکے ہیں تو اب کسی اور کے آنے کی کیا ضرورت ہے۔ مگر قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض لوگ منہ سے کہنے کے باوجود مومن نہیں ہوتے ۔ تو یا تو مسلمان قرآن کریم کی اس بات کا انکار کر دیں یا پھر ماننا پڑے گا کہ محض منہ سے کہہ دینے کا کوئی اعتبار نہیں۔ اور اگر امت محمد یہ اسی طرح بگڑ جائے جس طرح