خطبات محمود (جلد 19) — Page 516
خطبات محمود ۵۱۶ سال ۱۹۳۸ء کا ذریعہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے۔زبان کے ذائقوں میں تبدیلی سے ڈاکٹر اور اطباء کی اندرونی نقائص کا پتہ لگاتے ہیں۔طبیبوں نے اس کے ماتحت انسانی طبائع کو کئی اقسام میں تقسیم کی کر رکھا ہے۔دموی بلغمی سوداوی ، صفراوی وغیرہ۔ڈاکٹروں نے ان کے اور نام رکھے ہیں مگر در حقیقت یہ انڈیکس ہیں جو مختصر طور پر انسان کی حالت کو بتاتے ہیں۔آنکھ بیرونی اشیاء کو دیکھتی ہے مگر ساتھ ہی وہ اندر کی حالت کو بھی ظاہر کر رہی ہوتی ہے۔کسی شخص کی آنکھیں سرخ ہوں تو ہم معلوم کر سکتے ہیں کہ اس کے سر کی طرف دورانِ خون زیادہ ہے۔بعض آنکھوں میں ایک خاص قسم کی چمک ہوتی ہے جو بتاتی ہے کہ اس شخص میں سل کا مادہ ہے۔حضرت خلیفہ اول کی شناخت اس بارے میں قریباً سو فیصدی درست ہوتی تھی اور ہم جنہوں نے آپ سے طب پڑھی ہے اسے پہچانتے ہیں اور بہت حد تک اس بارہ میں ہماری تشخیص درست ہوتی ہے۔تو آنکھ گو بظاہر بھی دیکھتی ہے مگر اندرونی حالت کا بھی پتہ دیتی ہے۔جس طرح انسان کے ان حصوں کے سپرد بیرونی طور پر کچھ کام ہیں، کوئی دیکھتا ہے، کوئی سنتا ہے، کوئی سونگھتا ہے ، اسی طرح کی اندرونی طور پر بھی ان چیزوں کے سپر دمختلف کام ہیں اور وہ جسم کے بعض نقائص کو ظاہر کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ان کو فہرست مضامین کے طور پر بنایا ہے تا ان کو پڑھ کر پتہ لگایا جا سکے کہ اندر کیا نقص ہے۔فرق صرف اس قدر ہے کہ کتابوں کی فہرست مضامین تو ہمیشہ یکساں حالت پر رہتی ہے اس میں لکھا ہوتا ہے کہ اس کتاب کے صفحہ ۱۹ پر فلاں مضمون ہے۔اب خواہ اس صفحہ کو دیمک چاٹ لے، بیچ میں سے کوئی پھاڑ لے، وہ وہاں رہے یا نہ رہے فہرست میں یہ بات برابر درج رہے گی لیکن یہ ایسی فہرست ہے کہ جو حالات کی تبدیلی کے ساتھ بدلتی رہتی ہے۔انسان کی اندرونی کتاب کا ورق جو نہی الٹتا ہے فہرست بھی اس تبدیلی کو بتا دیتی ہے اور پھر یہ پہلے سے انسان کو آگاہ کرتا رہتا ہے کہ یہ خرابی ہونے والی ہے۔انسان امراض سینہ کا شکار ہونے والا ہو تو بعض شخصوں پر مہینوں بلکہ سالوں پہلے نزلہ گرنا شروع ہو جاتا ہے جو اسے آئندہ آنے والے خطرہ سے آگاہ کرتا رہتا ہے۔ایک قطرہ گرتا اور اسے بتاتا ہے کہ اندر کوئی خرابی ہو رہی ہے، دوسرا گرتا ہے اور بتاتا ہے۔اسی طرح اگر جنون ہونا ہو تو بعض لوگوں کے پہلے ہی سے کان بہرے ہونے لگتے ہیں۔اور گھوں گھوں ہوتی رہتی ہے۔انسان سمجھتا ہے کہ کانوں میں خرابی ہے